بڑی مصیبت کیا ہے؟

ریورنڈ۔ ڈی۔ ارل ۔ کرپ

 

ایک  بہت بڑی مصیبت

اگر یہ آخری خلاصی ہے۔۔ اگر یہ وہ ہے تو بائبل کا ہمیں بتانے کا کیا مطلب ہے۔ پھر ایذا رسانی کے بارے میں کیا ہے؟ کب یہ میری تعلیم میں آئی؟ بہت سے طالب علم اِس بارے میں یقین رکھتے ہیں۔ یہ ایک خاص وقت میں کلیسیاء کے اُٹھائے جانے کے بعد زمین پر آتی ہے۔  اس کو کئی سالوں سے میں دوسروں پہنچا رہا ہوں۔اِس لیے میں اس کی تشریح کے تمام اقدام سے آگاہ ہوں کہ کیسے اسے اختتام تک لے جانا ہے۔ لیکن دوسروں اور آپ میں فرق ہے۔ جو یقین رکھتے ہیں اوراس طرح تعلیم دیتے ہیں ، میں اس کو ظاہر کرنے میں بہت احسان مندی محسوس کرتا ہوں۔ کہ بائبل نے اِس بیان کو بہت زیادہ لفظوں میں بیان نہیں کیا ہے۔ میں بائبل کے کچھ اقتباسات آپ کے ساتھ شئیر کروں گا۔ اور اُن کی تشریح کروں گا۔ جو اِس کے مختلف اختتاموں تک لے جانے میں راہنمائی کرے گا۔

 

متی 21:24 کیونکہ  اُس وقت ایسی بڑی مصیبت ہو گی۔کہ دُنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہو گی۔

متی 22:24  اور اگر وہ دِن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دِن گھٹائے جائیں گے۔

متی 24:24  کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گےاور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گُمراہ کر لیں۔

 

یہ ایک بڑا مشہور پیرا گراف ہے جس میں یسوع اپنے شاگردوں کوبتا رہا تھا۔ کہ اُس کے آنے کے نشانات کون سے ہوں گے۔ اور دُنیا کا خاتمہ کِس طرح ہو گا۔ یسوع نے اُنہیں بہت سی باتیں بیان کیں، اور اُس نے اُس دور کو بہت بھاری مصیبتوں کا دور کہا ہے۔ درحقیقت اُس نے اُنہیں بتایا کہ ایسی بڑی مصیبت ہو گی۔ جو زمین پر اُس وقت تک ہوئی نہ ہو گی۔  اِس پیراگراف میں آگے چل اُس نے کچھ چیزوں کے بارے میں بیان کیا ہے۔ جو مصیبت کے اِن دِنوں میں واقع ہوں گی۔ لیکن اُس نے مصیبت کو ایک خاص وقت میں رکھا ہے جو اُن کی زندگی میں ہی شروع ہو جائیں گی۔

 

وہ اِس طرح بھی ہو سکتی ہیں۔ اُن میں سے کچھ اسرائیلی قوم کے ساتھ بھی واقع ہو سکتی ہیں۔ کہ اُس کے ساتھ دُنیا کی دوسری قومیں اُس کی بادشاہت کے چھِن جانے کے بعد کس طرح کا سلوک کریں گی۔ اور وہ اپنی مکروہ حرکتوں کی وجہ سے خُدا کولوگوں سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ شاید وہ اُنہیں یہ بتا رہا تھا کہ وہ قہر میں آ جائیں گے۔ اُن کے ہاتھوں کے خلاف جن کو خُدا نے اُن سے  لمبے عرصے سے بچایا تھا۔ یہ بہت شدید ہو گی۔ یہ اُن برگزیدوں کے خلاف نہیں ہوگی کیونکہ اُن کوزمین سے مکمل طور پر غائب کر دے گا۔قومی عہد کے سبب سے وہ ابھی تک خُدا کے لوگ تھے۔ اور اِس طرح کی بات چیت ترتیب سے ہونی چاہیے۔ یقیناً یہودیوں کے ساتھ جو واقع ہوا جس کے نیچے یہودی صدیوں سے تھے اُن سے مماثلت رکھتا ہے۔ جب تک خُدا نے اُن سے بادشاہت نہیں لے لی۔ اور عہد تبدیل کرتے ہوئے وہ دوسروں کو نہ دے دی۔

 

اگر کوئی اِس قابل نہیں ہے تا ہم اِس پیغام کو تمام خُدا کے لوگوں کے سامنے اِس سے آگاہ کرنے کے لیے پڑھے کہ کیا ہونے والا ہے۔ اُن کے ساتھ ، اُن کے ایمان اورخُدا کے ساتھ پہچان کہ کیا ہونے والا ہے۔ وہ اُس وقت بولا کہ وہ شخص جِسے اُس نے بہت سوں میں سے پیار کیا وہ ٹھنڈا پڑ گیا کیونکہ اُن کے ارد گرد شدید بے انصافی ہوتی ہے۔ یہ ایک جانی پہچانی آواز جب ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی محبت کے ساتھ اور کلیسیاء کے کام کے ساتھ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔ اُس نے اس وقت یہ بھی بات کی۔ کہ بائبل مقدس کی تبلیغ ساری دُنیا میں ہو گی۔ دوسرے لفظوں میں یسوع مسیح نے بہت بڑی ایذارسانی کے بارے میں کہا کہ یہ ساری عمر جاری رہے گی۔ جب تک کہ خاتمہ نہیں ہو جاتا ، جیسا کہ آیات 29 تا 31 میں بیان کیا گیا ہے۔         

 

اعمال 21:14 اور وہ اُس شہر میں خوشخبری سُنا کر اور بہت سے شاگرد کر کے لُسترہ اور اِکنیم اور انطاکیہ کو واپس آئے۔

اعمال 22:14 اور شاگردوں کے دِلوں کو مضبوط  کرتے اور یہ نصیحت دیتے تھے کہ ایمان پر قائم رہو اور کہتے تھے ضرور ہے کہ ہم بہت مصیبتیں سہہ کر خُدا کی بادشاہی میں داخل ہوں۔

 

اِس پیرا گراف میں پولوس رسول اور برنباس کلیسیاؤں کو اُن آزمائشوں اور مصیبتوں کے متعلق جس سے اُن کا سامنا رہا کے بارے میں دلاسا دینے اور اُن کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے اور اُن کو ترغیب دینے کے لیے کہ وہ اپنے ایمان میں ڈٹے رہیں گئے۔ اُنہوں نے بادشاہی کو خُدا کی فرمانبرداری کے طور پر پہچانا۔ اور بتایا کہ جو مصیبتوں کو زیادہ برداشت کرے گا وہ خُدا کی بادشاہی میں داخل ہو گا۔ موجودہ تجربات کا ہونا مصیبتوں کو برداشت کرنے کی پہچان ہے۔ 

 

رومیوں 3:5 اور صرف یہی نہیں بلکہ مصیبتوں میں بھی فخر  کریں یہ جان کر کہ مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے۔

رومیوں 4:5 اور صبر سے پُختگی اور پُختگی سے اُمید پیدا ہوتی ہے۔

رومیوں 5:5 اور اُمید سے شرمندگی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ روح القدس جو ہم کو بخشا گیا ہے۔ اُس کے وسیلہ سے خُدا کی محبت ہمارے دِلوں میں ڈالی گئی ہے۔

 

ایک مسیحی صرف یہ ہی نہ سمجھے کہ اپنی زندگی کی بجا آوری میں صرف مشکلات کو برداشت کرنا ہی نہیں بلکہ اِس سے لطف اندوز ہونا بھی ہے۔ کیونکہ مصیبتیں اچھائی کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ بے صبری ، نا پختگی ، بزدلی جیسے دنیاوی کاموں سے پاک کرتی ہیں۔ اور یسوع مسیح کے قریب لاتی ہیں۔ یہ ایذارسانی ہی ہے۔ جیسا کہ یسوع مسیح نے کہا ہے خُدا کے خادموں کے انتشار کو سہنے کے لیے کسی بھی چیز سے سب سے زیادہ مشکل ہے۔ درحقیقت ہم مضبوط ہونے کے قابل نہیں ہیں۔ اگر روح القدس کی تسلی اور مضبوطی نہیں ہے۔ لیکن ہم اس کے وسیلہ سے اپنی مضبوطی کی قدر کو کھونے نہیں دیں گے۔ اس کی بہتری کے بغیر ہم کیا کھو دیتے ہیں۔

 

رومیوں 35:8 کون ہم کو مسیح کی محبت سے جُدا کرے گا؟ مُصیبت یا تنگی یا ظُلم یا کال یا ننگا پَن یا خطرہ یا تلوار؟

رومیوں 36:8 چنانچہ لکھا ہے کہ ہم تیری خاطر دِن بھر جان سے مارے جاتے ہیں۔ ہم تو ذبح ہونے والی بھیڑوں کے برابر گِنے گئے۔

رومیوں 37:8 مگر اُن سب حالتوں میں اُس کے وسیلہ سے جِس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بڑھ کر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔

 

ہم موجودہ زندگی میں مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اِ س کی صرف خُدا نے ہی اجازت نہیں دی ہوئی۔ بلکہ اُس نے یہ خاص طور پر ہمارے لیے تیار کی ہوئی ہیں۔ ہم ذبح ہونے والی بھیڑ سمجھی جاتی ہیں۔ انکارِذات اور اپنے آپ کے لیےمرنا نہ صرف دنیاوی بادشاہت کے لیے مرنا ہے۔ بلکہ جذباتی اور خیالی طور پر مرنا ہے۔ تمام دنیاوی اور فنا ہونے والے خزانے دائمی اور ازلی تلاش کے لیے قربان ہونے کے لیے ہیں۔ کیسی بھی مصیبتیں ہوں کوئی مسئلہ نہیں۔ اور کتنی بھی شدید ہوں ہمیں خُداکی محبت سے جُدا نہیں کر سکتیں۔ تاہم وہ ہمیں دوستوں ، ہمارے ساتھیوں کی نظر میں ہماری عزت ، اور یہاں تک کہ ہماری سربراہ کی نظر سے الگ کر سکتی ہیں۔ خُدا کی خدمت کرنے کے صلے میں ہمیں اِن باتوں سے واسطہ پڑتا ہے اور پڑے گا۔

 

رومیوں 12:12 اُمید میں خُوش ۔ مُصیبت میں صابر۔ دُعا کرنے میں مشغول رہو۔

 

 یہ پیرا گراف ہمیں بتاتا ہے۔ کہ اِس دور میں مسیحیوں کو مصیبتوں کو قبول کرنا ہے۔ جہاں تک تبدیلی اور ذہن بدلنے کا تعلق ہے۔ اُنہیں اِن حالات کو صبروبرداشت سے قبول کرنا ہے۔

 

 کر۔9:4   میری دانست میں خُدا نے ہم رسولوں کو سب سے ادنیٰ ٹھہرا کر اُن لوگوں کی طرح پیش کیا ہے جن کو قتل کا حُکم ہو چُکا کیونکہ ہم دُنیا اور فرشتوں اور آدمیوں کے لیے ایک تماشا ٹھہرے۔

 کر۔12:4 اور اپنے ہاتھوں سے کام کر کے مُشقت اُٹھاتے ہیں۔لوگ بُرا کہتے ہیں۔ وہ ستاتے ہیں ہم سہتے ہیں۔

 کر۔13:4 وہ بدنام کرتے ہیں ہم مِنت سماجت کرتے ہیں۔ ہم آج تک دُنیا کے کُوڑے اورسب چیزوں کی جھڑن کی مانند رہے۔

 کر۔16:4 پس میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ میری مانند بنو۔

 

رسولوں کے ذریعے سے خُدا ہمیں یہ تصویر دکھاتا ہے۔ کہ کس طرح اُس کے ایماندار لوگوں کو اِس دُنیا میں کِس طرح کے حالات کا سامنا کرنا ہے۔ یہ صرف ماحول کے نتیجہ سے ہی واقع نہیں ہو گا۔ خُدا نے اپنے اورہمارے جلال کے لیے اِس کا انتظام کیا ہے۔ ہم نہ صرف اِس کی توقع رکھیں بلکہ اِس کو برداشت بھی کریں۔ بلکہ کِسی بھی قسم کی خدمت کے لیے التجا کرتے ہیں۔ جو ہمیں اُن تجربات کی طرف لے جاتی ہے۔ 

 

 ۔ کر3:1  ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے خُدا اور باپ کی حمد ہو جو رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلی کا خُدا ہے۔

 ۔ کر4:1  وہ ہماری سب مصیبتوں میں ہم کو تسلی دیتا ہے تاکہ ہم اُس تسلی کے سبب سے جو خُدا ہم کو بخشتا ہے۔ اُن کو بھی تسلی دے سکیں جو کسی طرح کی مصیبت میں ہیں۔

 ۔ کر5:1  کیونکہ جس طرح مسیح کے دُکھ ہم کو زیادہ پہنچتے ہیں۔ اُسی طرح ہماری تسلی بھی مسیح کے وسیلہ سے زیادہ ہوتی ہے۔

 ۔ کر9:1  بلکہ اپنے اوپر موت کے حکم کا یقین کر چُکے تھے۔ تاکہ اپنا بھروسہ نہ رکھیں۔ بلکہ خُدا کا جو مُردوں کو جلاتا ہے۔

 

مقدس پولوس نہ صرف مقدسوں کی مصیبت کی اِس حقیقت ، مقصد اور فائدے کو تقویت دیتا ہے۔ بلکہ اِس کی سختی کو بھی بیان کرتا ہے۔ یہ مسیحیوں کے لیے اپنی قدرتی صلاحیت میں بہت عظیم ہیں۔ حقیقت میں یہ اُن کے لیے موت ہے۔ یہ صرف خُدا کی قوت کے ذریعے ہے۔ کہ ہم ثابت قدم رہنے کے قابل ہیں۔ اِن تجربات میں موت کا اصول تلافی ہے اور آسمان پر اُٹھایا جانا قانون ہے۔ اپنے آپ میں اُن پر سزائے موت کا حکم ہو چکا۔ لیکن خُدا نے اُن کو چھٹکارا دیا۔ اُس نے کیسے چھٹکارا دیا؟ کیا اُس نے خُود اس موت سے بچایا یا کسی باہر کے انسان نے؟ نہیں ، اُس نے اُنہیں مرنے کی اجازت دی ، اور اُنہیں موت سے زندہ کیا: ‘‘۔ ۔ ۔ تاکہ اپنا بھروسہ نہ رکھیں۔ بلکہ خُدا کا جو مُردوں کو جلاتا ہے۔ ۔ ۔’’ یہاں پر ایذارسانی کا مطلب جسمانی موت کے معنی میں نہیں ہے۔ اگرچہ یہ بہت سے مقدسین کو آئی۔ لیکن اس کا مطلب حقیقی موت تھی۔ جو خُدا کے بندوں پر اپنی پوری طاقت کے ساتھ کوشش کرتی ہے۔ بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر۔ شیطانی دباؤ اور اخلاقی ، جذباتی اور ذہنی بادشاہت پرحملے حقیقی حملوں سے کم نہیں ہوتے اور یہ جسمانی سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں۔ درحقیقت یہ شاید اصلی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ پینتی کوست اور روح القدس کے نزول سے پہلے خُدا کے لوگ اِن مشکلات کو سہنے کے قابل نہیں تھے۔ اور اُن سے یہ کرنے کے بارے میں پوچھا نہیں گیا۔ اِس سے پہلے اُن پر اِس طرح کی کوئی مصیبت نہیں آئی۔ اور خوش قسمتی کے ساتھ خُدا کے لوگوں کے ساتھ ، جب ہماری دردِزہ کے دِن ختم ہوں گے۔ پھر دوبارہ اِس طرح کا کچھ نہیں ہو گا۔

 

 ۔ کر4:7  میں تم سے بڑی دلیری کے ساتھ باتیں کرتا ہوں۔ مجھے تم پر بڑا فخر ہے۔ مجھ کو پوری تسلی ہو گئی ہے۔ جتنی مصیبتیں ہم پر آتی ہیں۔ اُن سب میں میرا دِل خوشی سے لبریز ہوتا ہے۔

 

پولوس  ایذا رسانی کو دوبارہ یہ تسلیم کرتا ہے۔ جو وہ مقدسین کی خاطر برداشت کرتا ہے۔ اور کہتا ہے۔ کہ وہ اُن کے کامیاب ہونے تک اِس میں بہت زیادہ خوش ہے۔

 

 تھس 1:3   اِس واسطے جب ہم زیادہ برداشت نہ کر سکے تو اتھینے میں اکیلا رہ جانا منظور کیا۔

 تھس 2:3 اور ہم نے تیمتھیس کو جو ہمارا بھائی اور مسیح کی خوشخبری میں خُدا کا خادم ہے اِس لیے بھیجا کہ وہ تمہیں مضبوط کرے اور تمہارے ایمان کے بارے میں تمہیں نصیحت کرے۔

 تھس 3:3   کہ اِن مصیبتوں کے سبب سے کوئی نہ گھبرائے کیونکہ تم آپ جانتے ہو کہ ہم اُن ہی کے لیے مقرر ہوئے ہیں۔

 تھس 4:3  بلکہ پہلے بھی جب ہم تمہارے پاس تھے تو تم سے کہا کرتے تھےکہ ہمیں مصیبتیں اٹھانا ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور تمہیں معلوم بھی ہے۔

 تھس 5:3  اِس واسطے جب میں اور زیادہ برداشت نہ کر سکا تو تمہارے ایمان کا حال دریافت کرنے کو بھیجا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آزمانے والے نے تمہیں آزمایا ہو اور ہماری محنت بے فائدہ گئی ہو۔

 

اِس پیراگراف کو جسے ہم دیکھتے ہیں۔ اُن دِنوں کے بارے میں کلیسیاء کو سکھایا گیا ہے۔ کہ اُنہیں مصائب برداشت کرنا پڑیں گے۔ جب یہ ہو گا۔ تو اُنہیں اِس بارے میں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ یا یہ سوچنا کہ یہ بڑی عجیب یا غیر معقول بات تھی۔ وہ مایوس نہیں تھے۔ اپنے ایمان کے اِس جوش و خروش پر جسے بھگو دیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ اُنہیں بہت کچھ سکھایا گیا رسول پھر بھی پریشان تھا۔ کہ شیطان اب بھی اُن کو ان باتوں کی وجہ شکست دینے کے قابل ہے۔ پس اُس نے اُن کی دوبارہ حوصلہ افزائی کی اور اُنہیں نصیحت کی ۔ حیران ہونے کی ایک وجہ یہ تھی۔ کہ بہت سارے مسیحی صدیوں سے شیطان کے پھندے کے نیچے پھنسے ہوئے تھے۔ کیونکہ اُن کو باقاعدہ تعلیم نہیں ملی تھی۔ کہ کلیسیاء بڑے شدید مصائب کو برداشت کرنا ہے۔ اُن کے لیے یہ عام تجربہ ہونا چاہیے۔ جو خُداوند یسوع کے بالکل قریب یا ساتھ ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ در حقیقت ایسا محسوس ہوتا ہے۔ کہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ جس میں کلیسیاء پر بہت سے چیزیں حملہ آور ہوئیں۔ جیسے کہ جدید دور کی فضول دلائل مثلاً ایوب کی تسلی ، جس نے خود ساختہ تعلیم کو ترک کیا۔ جبکہ اس نقطہ نظر کی بائبل تصدیق نہیں کرتی۔ وہ تمام جو خداوند یسوع مسیح میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ ایذارسانی میں مبتلا ہوں گے۔ پولوس رسول تھیمتھس کو بتاتا ہے (2۔ تھمتھیس 12:3 )، اگر ہم اُس کے ساتھ بادشاہت کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہمیں اُس کے ساتھ دُکھ سہنا ہو گا۔ اُس کی خاطر دُکھ نہ سہنا اُس کا انکار ہے۔(2۔تھمتھیس 12-10:2 )۔ ہمیں اس کام کے لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اُس کے ساتھ دُکھ سہیں۔(فلپیوں 29:1 )۔ ہمیں سوچ کا وہ راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ وہ لوگ جو شہوت پرستانہ زندگی ، ناپاکی خود پرستانہ زندگی کو چھوڑ کر یسوع کی خاطر دُکھ اُٹھانا شروع کرتے ہیں۔ اور یسوع اوراُس کی بادشاہی کے لیے زندگی گزارنا شروع کرتے ہیں۔ (1۔ پطرس 2,1:4) یہ تو عام  بات ہے کہ مقدسین خُدا کی پرستش کرتے ہیں۔ کہ وہ مصائب میں سے گزرے نہیں ۔ یہ جدید دور کے شاگردوں کی بڑی غمزدہ تشریح ہے۔ یہ ایک حیرت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خُدا نے اُنہیں اس دُنیا کے لیے     چھوڑ دیا ہے۔ اس دنیا میں خداوند یسوع مسیح کے شاگردوں کے دُکھوں سے متعلق سچائی کا انکار کرتے ہوئے اس وقت دلہن کی محنت مشقت کی ذ مہ داری ، سہولت کثرت کی ابدیت کو رد کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ کی بارآوری جو وہ لا سکتے ہیں اور اُنہیں  یہ لانا بھی چاہیے۔ 

 

مکاشفہ 9:1  میں یوحنا جو تمہارا بھائی اور یسوع کی مصیبت اور بادشاہی اور صبر میں تمہارا شریک ہوں خُدا کے کلام اور یسوع کی نسبت گواہی دینے کے باعث اُس ٹاپو میں تھا۔ جو پتمس کہلاتا ہے۔

 

یہاں پر مقدس یوحنا اِس کو واضح کرتا ہے۔ خُدا کی اِس بادشاہی میں وہ تمام برگزیدوں کوجو مصیبت میں تھے اور ہیں کو  بتاتا ہے۔ درحقیقت مصیبت کی یہ وہ سرگزشت ہے کہ یوحنا کو جزیرے میں جلا وطن کر دیا گیا۔ یوحنا اور کلیسیائیں بادشاہت اور بیک وقت مصیبت میں تھیں جن کو اُس نے خط لکھا۔ کلیسیاء کے دور کے شروع میں دونوں حقیقتیں موجود تھیں۔     

 

مکاشفہ 9:2 میں تیری مصیبت اور غریبی کو جانتا ہوں۔ (مگر تو دولت مند ہے) اور جو اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں۔ اور ہیں نہیں بلکہ شیطان کی جماعت ہیں۔ اُن کے لعن طعن کو بھی جانتا ہوں۔

مکاشفہ 10:2  جو دُکھ تجھے سہنے ہوں گے اُن سے خوف نہ کر۔ دیکھو ابلیس تم میں سے بعض کو قید میں ڈالنے کو ہے تاکہ تمہاری آزمائش ہو اور دس دِن تک مصیبت اُٹھاؤ گے۔ جان دینے تک وفادار رہ تو میں تمہیں زندگی کا تاج دوں گا۔

 

 یسوع سمرنا کی کلیسیاء سے فرماتے ہیں۔ کہ وہ اُس کی مصیبت کو جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اِس وجہ سے دولتمند ہیں۔ اور اُن کی غریبی اُس کی خاطر ہے۔ اُس نے اِس میں تخفیف کی کوئی پیشکش نہیں کی۔ لیکن اُس نے اُن کو یہ بتا دیا کہ اُن کی مصیبت دس دِن تک ہو گی۔ اوراِس دوران شیطان کو یہ اجازت ہو گی۔ کہ اُن میں سے کچھ کو قید میں ڈال دے۔ تاکہ اُن کی آزمائش کرے۔ اُس نے اُن کو بتایا کہ جان دینے تک وفادار رہو تو زندگی کا تاج حاصل کرو گے۔ جب ہم اُس باب میں آتے ہیں جس کے  اِس مضمون کا مکاشفہ کے ساتھ تعلق ہے، تو مکاشفہ میں اعداد کے استعمال کے متعلق مزید بات کریں گے  میں یہاں اِس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا ہے۔ میں یہاں پر صرف اصطلاح ‘‘ دس دِن’’ نشان پر بات کروں گا۔ اور اُس کو پورا وقت دوں گا۔ کہ وہ دُنیا میں ہوں گے۔ بلاہٹ جان دینے تک وفادار رہنے کی ہے۔

 

مکاشفہ 9:7 اِن باتوں کے بعد جو میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِ زباں کی ایک ایسی بڑی بھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا تھا۔ سفید جامے پہنے اور کھجور کی ڈالیاں اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے تخت اور برّہ کے آگے کھڑی ہے۔

مکاشفہ 10:7  اور بڑی آواز سے چلا چلا کر کہتی ہے کہ نجات ہمارے خُدا کی طرف سے ہے۔ جو تخت پر بیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے۔

مکاشفہ 11:7  اور سب فرشتے اُس تخت اور بزرگوں اور چاروں جانداروں کے گردا گرد کھڑے ہیں۔ پھر وہ تخت کے آگے منہ کے بل گر پڑےاور خُدا کو سجدہ کر کے،

مکاشفہ 12:7 کہا آمین ۔ حمد اور تمجید اور حکمت اور شُکر اور عزت اور قُدرت اور طاقت ابدالآباد ہمارے خُدا کی ہو۔ آمین

مکاشفہ 13:7  اور بزرگوں میں سے ایک نے مجھ سے کہا۔ کہ یہ سفید جامے پہنے ہوئے کون ہیں  اور کہاں سے آئے ہیں۔

مکاشفہ 14:7   میں نے اُس سے کہا اے میرے خُداوند! تو ہی جانتا ہے۔ اُس نے مجھ سے کہا یہ وہی ہیں جو اُس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو کر سفید کیے ہیں۔

مکاشفہ 15:7   اِسی سبب سے یہ خُدا کے تخت کے سامنے ہیں۔ اور اُس کے مَقدس میں رات دن اُس کی عبادت کرتے ہیں اور جو تخت پر بیٹھا ہے وہ اپنا خیمہ اُن کے اوپر تانے گا۔

 

یوحنا نے ہر ایک قوم اور اُمت اور اہلِ زبان کے لوگوں کی ایک بہت بڑی بھیڑ دیکھی۔ جن کوئی شمار نہیں کر سکتا تھا۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُن کا کوئی شمار نہیں تھا۔ لیکن اِس کے برعکس کوئی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کتنے ہیں۔ وہ یسوع مسیح کے سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے سفید جامے پہن رکھے تھے۔ جو قوت میں راستباز رویے اور روح القدس کے تحفے کی نشانی ہیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں کھجور کی ڈالیاں پکڑی ہوئی تھیں۔ یہ خُدا کے ساتھ اُن کے پھل لانے کی نشانی ہے۔ وہ روح القدس کی یگانگت میں یک زبان ہیں۔ جس میں اُنہوں نے عظیم نجات میں خُدا کی پرستش کی۔ جو اُنہیں برے یعنی خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے اُنہیں ملی۔ اُس عظیم میزبان نے اُن  بزرگوں اور چاروں جانداروں سے پرستش کا اعلان کیا۔ اِس وقت میں اُن چار جانداروں اور بزرگوں کی علامتوں کی طرف آتا ہوں۔ کیونکہ ہم بہت بڑی مصیبت کو دیکھ رہے ہیں۔ اُن متحدہ میزبان کی آوازوں اور زندگیوں کی وجہ خدا کی حمد اور تمجید ہو۔ اُس کے فہم کی وجہ سے اُس کی ستائش کی گئی۔ اُس کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اُس کو عزت دی گئی۔ اور ساری پرستش اُس کی قوت اور بزرگی سے منسوب کی گئی۔

 

ایک بزرگ نے یوحنا سے کہا۔ یہ کون لوگ ہیں، یہ کہاں سے آئے ہیں، اور انہوں نے جو سفید جامے زیب تن کیے ہوئے ہیں اُن کا کیا مطلب ہے۔ اور اُس نے کہا کہ وہ اُس کا جواب نہیں دے سکا۔ جو کہ اُس سے پوچھا گیا۔ بزرگ نے اُسے بتایا۔ کہ یہ ایک بہت بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے۔ اصل میں ترجمہ نہیں پڑھا جانا چاہیے، ‘‘ یہ وہی ہیں جو نکل کر آئے ہیں،’’ بلکہ ‘‘یہ وہ ہیں جو نکلتے ہیں۔’’ کیونکہ یہ وہ ہیں جو بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔ اور اُن کو خُدا کے سامنے کھڑے ہونے کی اجازت ملی ہے۔ اور اُس کے مَقدس میں دِن رات اُس کی عبادت کرتے ہیں۔ اُس بڑی مصیبت سے نکلنے کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو پاک صاف کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو یسوع مسیح میں مرکر اور جی کر راستبازی کا لباس پہنا ہے۔ اِس کا مطلب وہی ہے جب یوحنا کہتا ہے۔‘‘ اَے بچّو! کِسی کے فریب میں نہ آنا۔ جو راستبازی کے کام کرتا ہے وُہی اُس کی طرح راستباز ہے۔ جو شَخص گُناہ کرتا ہے وہ اِبلِیس سے ہے کِیُونکہ اِبلِیس شُرُوع ہی سے گُناہ کرتا رہا ہے۔ خُدا کا بَیٹا اِسی لِئے ظاہِر ہُؤا تھا کہ اِبلِیس کے کاموں کو مِٹائے۔ جو کوئی خُدا سے پَیدا ہُؤا ہے وہ گُناہ نہِیں کرتا کِیُونکہ اُس کا تُخم اُس میں بنا رہتا ہے بلکہ وہ گُناہ کر ہی نہِیں سکتا کِیُونکہ خُدا سے پَیدا ہُؤا ہے۔ اِسی سے خُدا کے فرزند اور اِبلِیس کے فرزند ظاہِر ہوتے ہیں۔ جو کوئی راستبازی کے کام نہِیں کرتا وہ خُدا سے نہِیں اور وہ بھی نہِیں جواپنے بھائِی سے محبّت نہِیں رکھتا۔’’(1۔ یوحنا 10-7:3 )  اِس کا مطلب وہی ہے جب یسوع کہتے ہیں۔ ‘‘ جو غالِب آئے مَیں اُسے اپنے خُدا کے مَقدِس میں ایک سُتُون بناؤں گا۔ وہ پھِر کبھی باہِر نہ نِکلے گا اور مَیں اپنے خُدا کا نام اور اپنے خُدا کے شہر یعنی اُس نئے یروشلِیم کا نام جو میرے خُدا کے پاس سے آسمان سے اُترنے والا ہے اور اپنا نیا نام اُس پر لِکھُوں گا۔’’(مکاشفہ 12:3)  درحقیقت خُدا نے ہماری مسیحی زندگیوں میں ہمارے لیے انتظام کیا۔ لیکن یہ ہمیں اچھا نہیں بنائے گا۔ اگر ہم اِس سے فائدہ حاصل نہیں کریں گے۔ جو خُدا کے ساتھ بہت زیادہ نزدیکی یا قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ غالب آتے ہیں۔ کچھ بھی کرنے کے تعلق سے اُنہیں مصیبت میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اُنہیں لازمی ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اُنہیں  اُس پر غالب آنے کے لیے اپنے آپ کو ثابت قدم رکھنا ہے۔ اُنہیں اِس لیے بھی ثابت قدم رہنا ہے۔ کہ کہیں وہ اُن پر غالب نہ آ جائے۔ لیکن اُنہیں اپنے ایمان میں مستحکم اور اٹل رہنا چاہیے برّے کے خون سے ہم شیطان پر اور مصیبتوں پر غالب آ سکتے ہیں۔ جو ہماری روحوں کے دشمن ہیں۔ یہ مستقبل کے بارے میں بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ موجودہ دور کے بارے میں بات ہے۔ کہ یہ کامل مقصد ہے۔ یہ بھید خداوند یسوع مسیح نے ہم پر آشکارہ کیا۔ اور یہ کس طرح اُن کے لیے جو اُس کی فرمانبرداری کرتے اور اُس کی پیروی کرتے ہیں۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُنہیں کیا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اسی لیے سفید جاموں میں اور کھجور کی ڈالیوں سے راستباز اور پھلدار زندگی کی ہمارے لیے تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ ذاتی چھٹکارے کے لیے تھوڑا سا چناؤ نہیں ہے۔ بلکہ ابتداء سے لے کر دُنیا کے اختتام  تک یسوع کی کلیسیاء کی وفاداری ہے۔ یہ سچائی ہے جو مکمل طور پر اُس کے ساتھ ہے۔ جو ہم نے یسوع اور اُس رسولوں کی تعلیمات نظر ثانی کی ہے۔

 

کوئی شخص یہ سوچ سکتا ہے۔ اُس کے پاس انکار کی وجہ ہو سکتی ہے۔ رسولوں  کے اذیت اُٹھانے سے ، اور کئی صدیوں سے ایمان کے شہیدوں کے ذریعے سے بہت بڑی مصیبت اکٹھی ہوئی۔ یہ اُس میں شامل ہوں گے جن کی گردنیں اُڑائی گئیں ، جو تلوار سے قتل کیے گئے ، جو جنگلی جانوروں کی طرح شکار کیے گئے۔ جو تارکول میں ڈوب رہا تھا تماشہ بنا دیا گیا۔ اور نیرو کے باغ میں چراغ کی طرح جلائے گئے۔ اُن کے ساتھ جنسی زیادتی ، وحشتناک سلوک کیا گیا اور اُن پر تشدد کیا گیا۔ اور دنیاوی لوگوں کی مدد سے اُن کو میدان میں قتل کیا گیا۔ اور اُن پر ذہنی، جذباتی اور جسمانی تشدد کیا گیا اور اُن کی تذلیل کی گئی۔ جن کو شیطان اور اُس کے پیروکاروں نے ایجاد کیا ہے۔ اُنہیں یقین ہے کہ اِس طرح کی مصیبتیں جو اُنہیں آتی ہیں وہ اُنہیں موجودہ دور میں خُدا کی پیروکاری کے قریب اور نزدیک لے جاتی ہیں۔ اور اُن کے لیے عظیم اجر ہے جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جو اپنی مرضی کے ساتھ اپنے خُداوند اور موت سے نجات دہندہ کی پیروکاری کرتے ہیں۔ اِس نقطہ پر بولنے کے لیے احتیاط کے ساتھ ایک سادہ نوٹ کی ضرورت ہے۔ اگر خُدا اپنے بندوں کے بارے میں ارادہ رکھتا ، جانتا ہے کہ توقع کیا ہے۔ ردِ عمل کیا ہو گا۔ اور برداشت کا اجر کیا ہو گا۔ کہ اُس نےنہ صرف کلیسیاؤں کو خطوط میں بائبل کا احکام دیئے بلکہ اپنے شاگردوں کو یہ دکھانے کےلیے یسوع مسیح کا مکاشفہ دیا کہ یہ کس طرح ہو گا۔ کیا آپ کو اور مجھے اُس تسلی کا انکار کرتے ہوئےاحتیاط سے کام نہیں لینا چاہیے۔ یہ غلطی کتنی سنجیدہ ہے کہ لوگوں کو اِن الہامی تشریحات سے دور رکھا جائے۔ اور ایمان کے ساتھ چھوڑ دینا کہ اُن کا یسوع مسیح کے لیے دُکھ اُٹھانا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ یا اگر یہ ہو جائے پھریہ بہت نمایاں یا با مقصد نہیں ہوں گے۔ اور کہ حقیقی وقعت اور یسوع مسیح کی خاطر بہت بڑی مصیبت میں ، دُکھوں کی برکت کسی دوسرے دور کے دوسرے لوگوں سے متعلق ہوں گی؟ میرا یقین ہے کہ اگر اِس طرح کی تعلیم دینا ایک غلطی ہے، تو یہ ایک وحشت ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ اِس طرح کی تعلیمات کے لیے بائبل کے جامع جواز دیکھوں۔ تمہاری بائبل میں کہاں کہا گیا ہے کہ کلیسیاء پر مصیبت نہیں ہے اور مصیبت نہیں تھی اور مصیبت کی اصطلاح کے بارے میں سوچ نہیں ہے۔ اور بہت بڑی مصیبت کا تعلق کسی اور عہد یا دور سے ہے۔ ایک بار پھر آپ مغلوب ہوگئے ہو۔ یا مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ مکاشفہ کی عظیم علامتی کتاب کی منطقی ، مادی وضاحت جیسی تعلیم کو تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ اگرچہ مکاشفہ ایسی تعلیم بالکل نہیں دیتا۔ مکاشفہ نہیں کہتا کہ ‘‘ ہزار سالہ بادشاہت’’ یسوع مسیح کی دوسری آمد کے بعد ہو گی۔ اسے دوبارہ پڑھیں اور بڑے غور سے پڑھیں۔ شاید اِس کا وہ مطلب ہو جو تم سوچتے ہو لیکن جو یہ کہتا ہے وہ ایسا نہیں ہے۔

 

یہ بڑی مصیبت کب ہو گی؟ یہ پینتی کوست کے دِن شروع ہوئی جب کلیسیاء کا چھٹکارا حقیقیت بن گیا۔ اور یہ خداوند یسوع مسیح کی دوسری آمد کے وقت ختم ہو گی۔ جیسا کہ ہر چیز یہ آخری چھٹکارا ہی کرتا ہے۔

 

یہ بڑی مصیبت کیا ہے؟ یہ اس دنیا میں یسوع مسیح کی خاطر مخالفت یا  ایذارسانی کا دُکھ ہے۔ جو ہر ایمان یافتہ مسیحی کی برداشت کے لیے مقرر ہے۔

 

اِس طرح کی بڑی مصیبت اِس سے پہلے کیوں نہیں تھی۔ کیونکہ وقت کے پورے ہونے کے چھٹکارے کے درمیان شیطان کو قہروغضب کے ساتھ ہمارے خلاف یہ اختیار دیا گیا ہے۔ جو اِس سے پہلے نہیں دیا گیا تھا؛ اور کیونکہ اب، روح القدس کے ساتھ ، ہم اِس قابل ہیں کہ ہم اُس ایذا رسانی کوبرداشت کر سکیں جو انسان پہلے برداشت کرنے کے قابل نہ تھا۔

 

کیوں اِس طرح کی بڑی مصیبت دوبارہ نہیں ہو گی؟ کیونکہ جب یہ چھٹکارے کا عمل ہو جائے گا۔ یہ دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی، اور نئی تخلیق کے لیے ایسی مشکل اور آزمائش کی کوئی وجہ نہیں ہو گی۔ جیسے انسانی زندگی میں ایک دلہن کے ساتھ ہوتا ہے۔ خُدا کے خاندان میں ہماری مشقت کا وقت بچے پیدا کرے گا۔ اور اُن میں پختگی  اُٹھائے گا۔ مکمل ہو جائے گا۔ اور لطف اندوز ہونے کا وقت مکمل ہوتا ہوا ہمارے سامنے ہمیشہ کے لیے پھیل جائے گا۔         

 

© 1999-2020 by God's Point of View.

  • Facebook Social Icon
  • YouTube Social  Icon