ایرک جے ملر

دہ یکی اندر آ رہی ہے

کرسچئین چیریٹی کے باب میں ہم پہلے ہی دہ یکی کے بارے میں بول چُکے ہیں۔ کیونکہ یہ موضوع آج کل اِس ملک میں  شریعت  پرستی کے بارے میں بچوں کے پوسٹر وں میں اِس کا  بہت ذکر  آیا ہےہم چاہتے ہیں کہ اِس بارے میں کچھ مزید چیزوں کے بارے میں بتایا جائے۔

دہ یکی جیسا کہ ہم پہلے بھی اِس کا ذکر کر چُکے ہیں۔ یہ ایک ضرورت ہے کہ کچھ ادارے اپنے چرچ کے لوگوں پر یہ اختیار کے ذریعے نافذ کرتے ہیں۔کہ وہ  فلاحی کاموں کےلیے اپنی آمدنی میں سے 10% دیں ۔(یا بعض اوقات اِس سے زیادہ جس کا یہ خاص ثبوت ہے) اور اگر کوئی شخص کم از کم یہ نہیں دیتا تو وہ خطرے میں ہے(اِن مِشنوں کے مطابق)   کہ جو برکتیں خُدا کی طرف سے اُن کو ملنے والی ہیں وہ واپس ہو جائیں گی۔جو وہ اُن لو گوں کو دیتاہے۔جو اُسے درست فیصد دیتے ہیں ۔ بدقسمتی سے اِس طرح کی سوچ کی تجاویز کے لیے بائبل اِس طرح کی تعلیم نہیں دیتی ، اور وہ بائبل کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے

مقصد کا سچا ثابت کرنے  کے لیےیہ ظلم کرتے ہیں۔

مختلف مایوس باتوں کو جوڑ کر جو ایک ناپائیدار تعلیم بنائی گئی ہے اُس کے بارے میں  مِشنیں لوگوں کو  الجھن میں ڈالنے والی آیتیں  بتا کرسمجھاتی ہیں کہ یہ اُن کی طرف سے  لوگوں پر احسان کیا  گیاہے۔ کہ اِن آیات کی دہ یکی کے بارے میں یقینی طورپر بڑی اہم ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اِس طرح کی آیتیں:

 لیکن بات یہ ہے کہ جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور جو بہت بوتا ہے وہ بہت کاٹے گا۔

  جِس قدر ہر ایک نے اپنے دِل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے۔ نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزِیز رکھتا ہے۔

  اور خُدا تم پر ہر طرح کا فضل کثرت سے کر سکتا ہے تاکہ تم کو ہمیشہ ہر چِیز کافی طَور پر مِلا کرے اور ہر نیک کام کے لئے تمہارے پاس بہت کُچھ موجُود رہا کرے۔

 :9 چُنانچہ لکھا ہے کہ اُس نے بِکھیرا ہے۔ اُس نے کنگالوں کو دِیا ہے۔ اُس کی راستبازی ابد تک باقی رہے گی۔

 پَس جو بونے والے کے لئے بِیج اور کھانے والے کے لئے روٹی بہم پہُنچاتا ہے وُہی تُمہارے لئے بِیج بہم پہنچائے گا اور اُس میں ترقّی دے گا اور تمہاری راستبازی کے پھلوں کو بڑھائے گا۔

 اور تُم ہر چِیز کو اِفراط سے پاکر سب طرح کی سخاوت کرو گے جو ہمارے وسِیلہ سے خُدا کی شکرگُذاری کا باعِث ہوتی ہے۔

 کیونکہ اِس خِدمت کے انجام دینے سے نہ صِرف مقدّسوں کی اِحتیاجیں رفع ہوتی ہیں بلکہ بہت لوگوں کی طرف سے خُدا کی بڑی شُکرگُذاری ہوتی ہے۔

  اِس لئے کہ جو نِیّت اِس خِدمت سے ثابِت ہُوئی اُس کے سبب سے وہ خُدا کی تمجِید کرتے ہیں کہ تُم مسیح کی خُوشخَبری کا اِقرار کر کے اُس پر تابِعداری سے عمل کرتے ہو اور اُن کی اور سب لوگوں کی مدد کرنے میں سخاوت کرتے ہو۔

  اور وہ تمہارے لئے دُعا کرتے ہیں اور تُمہارے مُشتاق ہیں اِس لئے کہ تُم پر خُدا کا بڑا ہی فضل ہے۔

شُکر خُدا کا اُس کی اُس بخشِش پر جو بِیان سے باہِر ہے۔

 15-6:9 کرنتھیوں -II

            یہاں پر ہم دیکھتے ہیں۔ کہ مقدس پولوس یہاں پر اِس بات میں دلچسپی نہیں رکھتا کہ لوگ یقینی طور پر ایک مخصوص فیصد دیں لیکن یہ اُس امن اور فضل سے جو ایمانداروں میں موجود ہے ( جس کا وہ خُدا کا ناقابلِ بیان تحفہ کے طور پر حوالہ دیتا ہے یہ کیسی خوبصورت بات ہے!ایمانداروں کی طرف روح القدس کی محبت کا پہاڑ دیکھنے کے لیے اُن کے ایمان کے نتیجہ اور تحمل کے نتیجہ میں اُن کی  مرضی کو خُدا کے سپرد کرنا ہے۔ خُدا کا فضل اُن لوگوں پر  ہوتا ہے جو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے  آزادی سے دیتے ہیں یا دوسرے خیالوں سے اور  وہ مطالبے سے باہر نہیں  نکلتے ۔اُنہوں  اِس لیے نہیں دیا کہ اُن کے چرچ کے راہنماؤں نے اُنہیں بتایا تھا۔ کیونکہ وہ ایسا ٹیکس دیتے  ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ  انہوں نے اپنی آمدنی  کا فیصد حقیقی طور پر دے دیاہے اور موسیٰ کی شریعت کو ترک نہیں کیا ۔ پولوس رسول واضح طور پر چاہتا ہے کہ وہ  یہ چیزیں کریں جو  یسوع  مسیح پر ایمان کی وجہ سے ، جس کا روح اُن میں سکونت کرتا ہے۔

                ایک خادم کیوں لوگوں کو اِس مشکل اور الجھن والے پیراگراف کے بارے میں انتباہ کرتا ہے؟ افسوس کے ساتھ ، کیونکہ وہ سادہ اور سیدھی سادھی زبان میں تعلیم دیتا ہے کہ مسیحیوں کو موسیٰ کی شریعت کے ذریعے مجبور اور تنگ کیا جاسکے ۔ لیکن مسیح کی خوشی کے ذریعے سے اُن کی سخاوت کا اُن کے اندر سے اظہار اوراُن کا زندگیاں گزارنا ہے۔

90/10

            میں نے اپنی بات چیت میں پہلے ہی سخاوت اور مدد کا ذِکر کیا ہے۔ ایک چالباز تحریک کے ذریعے سے 90% خادمین آج کل دہ یکی پر زور دیتے ہیں۔ تاکہ چرچ کی آمدن میں اضافہ ہو۔  جبکہ 10% سے بھی کم دوسرے خادمین ہیں جو سنجیدگی کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں۔ کہ دہ یکی وہ ہے جس کا  خُدا نے کلیسیاء کے لیے انتظام کیا ہے جس میں رہتے ہوئے آئیں

تھوڑی دیر کے لیے اِس کو دیکھیں۔

                پہلی بات کہ کیا نئے عہد نامہ میں یسوع مسیح کے جی اُٹھنے اور پینتی کوست کے دِن روح القدس کے نازل

ہونے تک کسی جگہ دہ یکی کا ذکر نہیں ہے  ۔ کسی بھی جگہ ذکر نہیں ہے۔

                اگر چرچ کو دہ یکی کے بارے میں ہدایت دینے کے لیے بائبل  میں اِس کا ذکر نہیں ہے کہ تو پھر کون سی آیات  مسیحیوں کو پیروی کرنے کے لیے  ہدایت کے طور پر دی گئی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم موسیٰ کی شریعت کے ماتحت اب نہیں ہیں؟  اچھا بہت سی باتوں سے ایک طرف ہٹ کر ہم پہلے ہی اِس بات کا ذکر کر چُکے ہیں۔ میرا خیا ل ہے کہ اِس بارے میں دو پیراگراف سوچنے کے لیے ضروری ہیں۔

اعمال 44:2 اور جو اِیمان لائے تھے وہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور سب چِیزوں میں شِریک تھے ۔

اعمال 45:2 اور اپنا مال واسباب بیچ بیچ کر ہر ایک کی ضرُورت کے موافِق سب کو بانٹ دِیا کرتے تھے ۔

اعمال 46:2 اور ہر روز ایک دِل ہو کر ہَیکل میں جمع ہُؤا کرتے اور گھروں میں روٹی توڑ کر خُوشی اور سادہ دِلی سے کھانا کھایا کرتے تھے ۔

اعمال 47:2 اور خُدا کی حمد کرتے اور سب لوگوں کو عِزیز تھے اور جو نِجات پاتے تھے اُن کو خُداوند ہر روز اُن میں مِلا دیتا تھا ۔

اعمال 32:4 اور اِیمانداروں کی جماعت ایک دِل اور ایک جان تھی اور کسی نے بھی اپنے مال کو اپنا نہ کہا بلکہ اُن کی سب چِیزیں مشترک تھیں۔

اعمال 33:4 اور رَسُول بڑی قُدرت سے خُداوند یِسُوع کے جی اُٹھنے کی گواہی دیتے رہے اور اُن سب پر بڑا فضل تھا۔

اعمال 34:4 کیونکہ اُن میں سے کوئی بھی محتاج نہ تھا۔ اِس لئے کہ جو لوگ زمینوں یا گھروں کے مالک تھے اُن کو بیچ بیچ کر بِکی ہُوئی چِیزوں کی قِیمت لاتے۔

اعمال 35:4 اور رَسُولوں کے پاؤں میں رکھ دیتے تھے۔ پھر ہر ایک کو اُس کی ضرُورت کے موافِق بانٹ دِیا جاتا تھا۔

اعمال 36:4 اور یُوسُف نام ایک لاوی تھا جِس کا لقب رَسُولوں نے برنباس یعنی نصِحت کا بَیٹا رکھا تھا اور جِس کی پَیدائیش کپرُس کی تھی۔

اعمال 37:4 اُس کا کا ایک کھیت تھا جِسے اُس نے بیچا اور قِیمت لاکر رَسُولوں کے پاؤں میں رکھ دی۔

            پہلی  بات تویہ کہ وہ روح میں مضبوط  اور وفادار تھے وہ دنیاوی، سُست اور ریاکار مسیحی نہیں تھے  ۔ وہ خُدا کے پروگرام کے بارے میں سنجیدہ تھے اِس دنیا میں   روز مرہ زندگی اِس کے مطابق بسر کرتے تھے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اُن کے پاس جو کچھ تھا۔ وہ خُدا نے اُنہیں دیا ہوا تھا۔ کیا یہ بات بڑی زبردست نہیں ہے۔ کہ موسیٰ کی شریعت کے مطابق اُنہیں اپنی موجودہ چیزوں کا 10فیصد دینے کی طاقت کے ذریعے سے فرمانبردار بنایا گیا یقینی طور پر ایسا نہیں ہے ! یہ بات ایمانداروں کے ذریعہ سے آئی، اُس ایمان اور فضل کے ذریعے سے جو اُن میں تھا جو اُن کے پاس تھا وہ 100% خُدا کی طرف سے ملا تھا۔

                ہم یہ شاندار مثالیں اس  معنی میں دیکھ سکتے ہیں: اگر ایماندار کو ضرورت ہے، تو  بہت سارے ایماندار  لوگوں کے ذریعے سے یہ ضرورت پوری ہو سکتی ہے ۔

دہ یکی کے حق میں دلائل

            پس  ایک خادم اِس طریقے  کی سوچ سے کس اپنے جماعت (مشن) کے بارے میں قائل کر سکتا ہے کہ  بطور مسیحی  تمہاری زندگی میں دہ یکی  کا ایک بڑا اہم کردار ہے؟ اچھا ، یہ ایک اچھا سوال ہے، اِس سے پہلے کہ میں اِس کا ذکر کروں، یہاں کوئی آیات نہیں ہیں  جو یسوع مسیح کی آسمان پر اُٹھائے جانے اور پینتی کوست کے دِن کے بعد  اِس کے مطالبے کے بارے میں جن میں اِس کا ذکر ہو۔ میں نے کچھ خادموں کو  یہ کہتے ہوئے سُنا ہے  کہ اگرچہ نئے عہد نامہ میں کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس میں دہ یکی کے بارے میں زور دیا گیا ہے۔بے شک، جیسا کہ چرچ کے لیے کوئی  مفصل ہدایت ہو، وہ آیات جن میں  دہ یکی کا ذکر ہو اُن کا کوئی وجود نہیں ہے۔

                پس وہ کس طرح اپنے دلائل کومرتب کرتے ہیں۔ جہاں تک میں دیکھ سکتا ہوں (  جس فاصلے کا میں ذکر کرتا

ہوں وہ بعض اوقات محدود ہو جاتا ہے)   بائبل کو مجموعی طور پر توڑ مروڑ دیتے ہیں  ایک بَل کھائے بسکٹ کی طرح یہ کہنے کے لیے کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔  اب ہر شخص یہ آسانی کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ بائبل کیا کہتی ہے جو کچھ بھی وہ کہنا چاہتا ہے وہ کہتاہے اور میں یہ کہتے ہوئے شرم محسوس کرتا ہوں  کہ میں اِس طرح کی حالتوں میں خود  گرفتار ہو چُکا ہوں ۔ مجھے یقین تھا  کہ بائبل  نے کہا X ، اور مجھے ضرورت اِس امر کی ہے کہ میں  X کہنے کا کوئی راستہ ڈھونڈوں، اِس وقت سے اِس نے اسے اِس طریقے سے اونچی آواز میں نہیں کہا۔میرا خیال ہے کہ ایسا ہونا چاہیے۔ عام طور پر میں اِس طرح کی کوششوں سے بہت دور نہیں رہتا۔جب سے  میں اِسے محسوس کرتا ہوں وہ میں ہوں جسے اپنے آقا کے حضور جُھک جانا چاہیے جیسا کہ بائبل میں انکشاف ہوا ہے۔ اور اِدھر اُدھر کوئی راستہ نہیں ہے۔

                دہ یکی کے بارے میں دلائل عموماً اِسی قسم کے ہوتے ہیں۔ پوری بائبل میں بہت سے مختلف معاملات  کسی سے ایک مسلۓ پر ملے جُلے  ہیں ۔ جیسا کہ عنوان ’’دہ یکی‘‘ ہے ۔ یہ تجاویز پیش کرنے والے لوگوں کے ذہن کے مطابق اِن مختلف حالات اور ہدایات کو اکٹھا کرنے سے مسیحی سخاوت اور دہ یکی  دونوں مختلف معاملات ہیں ۔

                 پہلا معاملہ چیریٹی ہے دوسرا معاملہ موسیٰ کی شریعت کے مطابق اِس کی حقیقی ضرورت ہے۔ ( اگرچہ موسیٰ کی شریعت کے مطابق  بہت  سی   دہ یکیاں ، ٹیکس اور قربانیاں ہیں ۔ جو تمام مل کر کسی شخص کی آمدنی کا تقریباً 30% ہیں۔ آخری معاملہ جو ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ وہ  پرانے عہد نامہ میں خون کی قربابیاں ہیں۔

                 یہ تینوں مختلف معاملات لگتے ہیں۔ جن کو خادموں نے جوڑ دیا ہے۔ تاکہ نئے عہد نامہ میں سے دہ یکی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکے ۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ خون کی قربانیاں ثابت کرتی ہیں۔ کہ کس طرح ہمیں خُدا کو واپس دینا ہے۔دہ یکی پرانے عہد نامہ میں یہ بھی ظاہر کرتی ہے۔ کہ ہمیں خُدا کو کیسے واپس کرنا ہے۔ آخر میں بطور مسیحی ہم  کو سخی بننا ہے۔ جو یہ ظاہرکرتاہے کہ ہم دہ یکی دیتے ہیں۔ اِس کی وضاحت کے بارے میں جیسا میں نے سُنا  ہے ۔  اِس  کا دارومدار مقصد یا رمز پر ہے۔ اور (میرا یقین ہے) کہ دہ یکی پسندیدہ ہے ۔ بائبل کے نقطۂ نظر کے مطابق اِس کے دلائل بہت ہی ناپائیدار ہیں۔

                پہلے ہم سخاوت کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کر چُکے ہیں۔ اور اُمید ہے کہ ہم سمجھ گئے ہیں۔ یہ دِل کی محبت اور فضل جو خُدا نے  ہمیں دیا ہے۔ اُس کے ذریعے سے یہ کیا گیاہے، اور یہ ضرورت نہیں ہے۔  اِس بات کو اِس طرف نہ موڑیں  میرا مطلب ہے کہ میں نے کہا ہے کہ سخاوت کے لیے دُنیا ٹھیک نہیں ہے۔ اگر آپ اپنا  وقت اور پیسہ  خُدا کی بادشاہت کے لیے نہیں دیتے تو تمہاری زندگی میں کوئی غلطی  ہے۔

                تین ٹانگوں والی دلیل کا دوسرا معاملہ نئے عہد نامہ کے لیے دہ یکی ہے۔ یہ موسیٰ کی شریعت کے لیے ضروری تھا ۔ پولوس رسول گلتیوں کے بے وقوفوں کو واپس موسیٰ  کی شریعت میں جانے کے متعلق  کہتا ہے۔ کیا یہ ہے  جہاں تم جانا چاہتے ہو؟ نہیں میں نہیں ۔ صرف ایک مثال ہے جس میں کسی نے موسیٰ کی شریعت کے علاوہ کسی کو دہ یکی دی۔ وہ ابرہام کی مثال ہے جس  نے نئے عہد سے بہت سال پہلے  1/10th  ملک صدق کو لوٹ سے واپسی پر دی ۔ اب آئیں ذرا اِس کی خاص حالت کو تھوڑا سا دیکھیں۔

                پیدائش کے 14ویں باب میں ہم دیکھتے ہیں۔کہ عیلام کا بادشاہ  کدرلاعمر اور3 بادشاہ  5 بادشاہوں سے جنگ کرنے کے لیے جاتے ہیں۔  تب کدرلاعمر نے جیت حاصل کی اور صدوم اور عمورہ ( 5 میں 2 بادشاہ)کو لوٹ لیا۔ اور ابرہام کے بھتیجے لوط کا قیدی بنا لیا۔ ابرہام نے خُدا کی ہدایت کے مطابق عمل کیا۔ اور اپنے علاقے کے تمام خانہ زادوں اور مسلح آدمیوں کو لیا اور رات کےوقت کدرلاعمر اور اُس کے تمام آدمیوں کا مارا اور لوط کا آزاد کروا لیا۔ اور ابرہام اُس تمام سامان کے ساتھ جو کدرلاعمر نے صدوم اور عمورہ کے بادشاہ سے لوٹا تھا۔ اُس کے ساتھ واپس ہوا۔ اِس کے بعد ملک صدق سالم کے بادشاہ کو  لوٹ مار کا دسواں حصّہ دیا۔ ( یہ حصّہ ابرہام نےاپنی کمائی کا نہیں دیا تھا۔ بلکہ دو بادشاہوں سے لوٹے ہوئے مال میں سے دیاتھا)۔  صدوم کےبادشاہ نے وہ سب کچھ ابرہام کو دینے کی پیش کش کی جو اُس نے کدرلاعمر سے لیا تھا۔ اور اگر وہ صرف قیدیوں کو دیتا جو اُس نے اسیر کیے تھے تو ابرہام اُنہیں لینے سے صاف صاف انکار کر دیتا۔ جیسا کہ اُ ن کے جوتوں کے تسمے۔ ابرہام نے علاقے کی فوج کو لینے کے لیے خُدا کی ہدایت پر عمل کیا اور اُس نے یہ نہیں چاہا کہ وہ یہ کام کرے کہ صدوم کے بادشاہ سے کوئی بڑی رقم لے۔

                پس  کیا یہ کہانی کسی طرح مسیحی سخاوت کے ساتھ نتھی کی جا سکتی ہے؟ یہ ایک اچھا سوال ہے۔ مجھے یقین نہیں ہے۔ کہ ابرہام کے خودغرضانہ روّیے سے یہ ہوتا ہے  ایک طرف دولت کی طرف اُس کا جھکاؤ تھا ۔ اِس سلسلے میں لوگ اُسے جانیں کہ وہ خُدا کا فرمانبردار رہا۔ ( لیکن دوبارہ کس طرح  اِس

بات کو سخاوت کے ساتھ باندھا جائے۔ مجھے یقین نہیں ہے۔)

                پھر ابرہام کو ملک صدق کو لوٹ میں 10% دینا کیا ہے؟  یہ اِس بات  کو ثابت کرتا ہے کہ دہ یکی لازمی ہے۔ ٹھیک؟ آئیں نمبروں کے متعلق   تیزی کے ساتھ  بات کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم تمام بائبل میں اُن کے متعلق دیکھتے ہیں۔یہ بہت لازمی ہے، تھوڑی سی مثالوں کو ظاہر کرنے سے ، نمبر 6 انسان کو ظاہر کرتا ہے۔( جو کہ چھٹے دِن تخلیق کیا گیا)۔ 7  کاملیت اور تکمیل کو ظاہر کرتا ہے۔ ( خُدا نے تخلیق کے بعد ساتویں دِن آرام کیا)۔ 12 اور اِس کے اضعاف خُدا کے لوگوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ) 1,44,000 ; 12000 ; 144 ; 24 ; 12) اور اِس طرح اور بہت سے نمبر ہیں ۔ نقطۂ یہ ہے کہ نمبرز بذاتِ خود اہم نہیں ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ کس کے لیے مخصوص جا رہے  ہیں۔ مثال کے طور پر یہ بہت لازمی ہے کہ بارہ شاگردوں سے کلیسیاء کی راہنمائی کی۔ یا یہ کہ 12 نمبر یہ ظاہر کرتے ہیں۔ بعد میں یہ ایک اہم مسلۂ بنا۔  نمبر صرف ایک نمبر ہے اِس میں بذاتِ خود  کوئی طاقت نہیں ہے۔ طاقت اُن میں ہے جن کو یہ نمبر ظاہر کرتے ہیں۔

                نمبر 100,10 اور 1000 اکثر بائبل میں مقاصد کے لیے ظاہر ہوئے ہیں۔ وہ لغوی  طور پر نہیں بلکہ وسیع معنوں یا بڑے نمبروں کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ یہ سمجھنا بہت  آسان ہے جب سے میں پُر یقین ہوا ہوں ، کہ یہ ہر دِن تمہاری زندگی میں کچھ نہ کچھ ہیں اگر تم نے کچھ نہ کچھ کہا ہو۔  ’’تمہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ اُن میں سے 10 ہونا چاہیے۔ ‘‘ اصل میں ، حقیقی طور 3یا4تھے یا جو کچھ بھی تھا یا جس کے بارے میں تم بات کر رہے ہو، لیکن تم نے کہا  کہ سامعین کو متاثر کرنے کے لیے وہ دس تھے۔ یا تم نے نمبرو ں کا غلبہ محسوس کیا۔ یا تمہیں اُن سے کوئی اختلاف تھا۔ دہ یکی کے دسویں  حصّے کے بارے میں میرا خیال ہے کہ یہ صرف علامتی ہے۔ جیسا کہ 100 ,10 یا 1000  ہے ۔ اِس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ایک گچھہ، ایک حصّہ  یا کسی چیز کا ایک ٹکڑا

                پس یہ کیسے ابرہام کی دہ یکی کے ساتھ باندھے جا سکتے ہیں؟ ہم پہلے ہی جانتے ہیں۔ کہ ابرہام کووہ لوٹ کا مال نہیں لینا چاہیے تھا۔ جو صدوم کے بادشاہ نے اُسے دیا۔ تاکہ لوگ اُن اُلجھنوں کا شکار نہ ہوں جن کی وجوہات اِس واقعہ کے پیچھےہیں۔ اُس نے ملک صدق کو ایک حصّہ دیا۔ جوخُداوند کا خادم تھا۔ اِس وجہ سے: خُدا کو دکھانے کے لیے کہ حملہ اُس نے اپنے کسی مقصد کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ خُدا کے لیے کیا ۔ لیکن اِس کی اہمیت کیا ہے ۔ دسواں حصّہ؟  دوبارہ ،  کیااِس نمبر میں کوئی طاقت چھپی ہوئی ہے؟ کوئی نہیں۔ یہ نمبر صرف لوٹ کے مال سے ایک مخصوص حصّہ دینے کے لیے مقرر کیا۔

                ابرہام کی مثال صرف ایک  ہی مثال ہے۔ ہم وہ دہ یکی دے رہے ہیں۔ جو موسیٰ کی شریعت سے باہر ہے۔ اور ہم دیکھ سکتے ہیں۔ کہ یہ بڑے خاص مقصد کے لیے کی گئی ہے۔ جہاں تک میں اِسے دیکھ سکتا ہوں۔ یہ حالت مسیحی سخاوت کے لحاظ سے کچھ نہیں  کرتی ، جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ اور نہ ہی اِس کا خون کی قربانیوں سے کچھ تعلق ہے۔ صرف ایک بات ہے جس کو خادمین سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چرچ میں دہ یکی کے استعمال کے بارے میں اُن کا یقین  ہے کہ اِس کہانی پر چرچ اپنی بات کو آگے بڑھا سکتا ہے۔یہ موسیٰ کی دی ہوئی شریعت سے پہلے واقع ہوئی۔ لیکن  اِس کہانی کے خاص حالات کی سمجھ سے بہت پہلے یہ بات گذر گئی ۔ یہ  کہتے ہوئے کہ چرچ میں پیروی کے لیے دہ یکی ایک خاص حکم ہے۔میرا خیال ہے چیزوں کی روح کی طرف دیکھنے سے ، ابرہام نے لوٹ کے مال کا حصّہ کیوں دیا ( جو صدوم کے بادشاہ نے اُسے دینا شروع کیا،  جو اُس کا نہیں تھا) ،  اِس کے پیچھے جو مقصد ہے اُسے ہم سمجھ سکتے ہیں ۔ لیکن دوبارہ سے،  یہ روح کی سمجھ میں شامل ہے۔نہ کہ چیزوں کے الفاظ میں۔

                مسیحیوں کے اِس طرح  کی شریعت پرستانہ ذہنیت میں گمراہ ہونے کی اصل مشکل یہ ہے کہ مسیحی بائبل کے  لفظی مطلب کے پیچھےسادگی کے ساتھ چھپے ہوئے روحانی مطلب کو  دیکھنے کی اُن میں ناقابلیت یا  نارضامندی ہے۔ (شاید تم جانتے ہو، یہ روح القدس ہے جو دوبارہ پیدا ہوئے لوگوں میں سکونت کرتا ہے۔جو بائبل کے سچے مطالب کو سمجھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ) پس جو بھی وجہ ہو، روحانی باتیں نظر انداز کی جارہی ہیں۔اور اُن کی لفظی اور طبعی  حمایت میں دیکھا نہیں جاتا۔

میں نے دہ یکی کو ثابت کرنے کے لیے امثال میں اِن دو آیات کو دیکھا:

 امثال 9:3  اپنے مال سے اور اپنی ساری پَیداوار کے پہلے پھَلوں سے خُداوند کی تعظِیم کر۔

امثال  10:3 یُوں تیرے کھتّے خُوب بھرے رہیں گے اور تیرے حَوض نئی مَے سے لبریز ہوں گے۔

                سب سے پہلے، باوجود اِس حقیقت کے کہ یہ آیات کلیسیاء میں دہ یکی کے بارے میں ثبوت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، لیکن وہ خاص طور پر  دہ یکی کے بارے میں کچھ نہیں کہتیں۔ لیکن ایک لمحے کے لیے اسے الگ رکھیں، یہاں پر ایک لفظی وضاحت ہے ۔میں نے یہ آیت دیتے ہوئے سُنا ہے: ’’اگر  تم  دہ یکی دیتے ہو،تو تم اپنے مال سے خُدا کو عزت دیتے ہو۔اور آپ اُسےپہلا پھل دیتے ہو،تو تم با برکت ہو گے۔ تم اپنے آپ سے کہہ سکتے ہو،  کہ میں کس طرح اپنی آمدنی کا 10%  خُدا کو واپس کروں کہ وہ برکت دے  اور  کیا میری رقم  اُس وقت سے بہتر ہوگی  جب میں  10%  نہیں دے رہا تھا؟  اچھا میں نہیں جانتا ، لیکن خُدا نے میرے لیے یہ کیا ہے اور اُس نے تمہارے لیے یہ کرنے کا وعدہ کیا ہے!‘‘

                اب، تم اِس دلیل کے تحت کچھ نشان ڈال سکتے ہو۔ کہ زیادہ تر لوگ جو  دلیل دیکھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔کیا وہاں پر کوئی خوشحالی نہیں تھی  جن کے بارے میں تم نے سُنا کہ وہ دہ یکی کھا گئے؟ اُس کا ’’ نام دو اور دعویٰ کرو‘‘ یہ لوگوں کی طرف سے پیغام ہے جو تمہیں بتاتے ہیں کہ خُدا چاہتا ہے کہ تم خوشحال ، دولتمند اور مشہور ہو، اور اگر تمہارے پاس نہیں تو تمہاری طرف سے کچھ غلط ضرور ہے۔ یہ جدید دور کے نیکلیے  ہیں— جن سے یسوع کو نفرت ہے—جو حصول کو خُدا پرستی سے دیکھتا ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اِس پیغام کو بیان کر رہاہے وہ  اِسے محسوس نہیں کرتا، یہی وہ پیغام ہے جو انہوں نے وہاں دیا۔آپ کے مالی فوائد آپ کو خُدا کے ساتھ باندھ سکتے ہیں— جو کہ یقینی طور پر آپ کی تقلید سے مشروط ہیں یہ موسیٰ کی شریعت کا ایک چھوٹا سا حصّہ ہے۔

                پس، اگر یہ لفظی تشریح درست نہیں ہے، تو ہم اِن آیات سے کیسے چھٹکارہ حاصل کرتے ہیں۔ جوہمارے’’ مال ‘‘سے متعلق ہے اور ’’ تیرے کھتے بھرے رہیں‘‘ ؟ میرا ایمان ہے ۔  کہ اِن آیات کو روحانی نقطۂ نظر  سے دیکھنا  بالکل درست ہے۔        

                        ’’اپنے مال سے اور اپنی ساری پَیداوار کے پہلے پھَلوں سے خُداوند کی تعظِیم کر۔‘‘  ہم اِس سے کیا مطلب اخذ کر سکتے ہیں؟ مال کے لیے عبرانی لفظ  جس کا حوالہ یہاں پر دیاگیا ہے اُس کا مطلب دولت، اِس سوچ میں کہ بہت زیادہ۔ تم اِس سے دولت کا لفظی مطلب لے سکتے ہو۔ پس تم اپنی دولت کے سا تھ کیا کرتے ہو؟ کیا یہی کچھ ہے جس سے خُدا خوش ہوتا ہے؟ یا تم اِس کی بہت بڑی مقدار بے دینی کے اور غیر نافع بخش  کاموں میں صرف کرتے ہو۔اگر ہم اِس سے آگے دیکھتے ہیں ، تو میرا خیال ہے کہ ہم  جو کچھ اب ہے اُس سے کچھ مزید دیکھ سکتے ہیں— اور یہاں تک کہ بہتر دیکھ سکتے ہیں۔ کیا وہ یہ چیزیں ہیں جو میں کرتا ہوں خُدا کو خوش کرتی ہیں، کیا میں اپنی باتوں سے ، اپنے رویے سے اور اپنے مال  (دولت اور برکت)  جو اِس وقت میرے پاس ہے اُس  سے خُدا کو عزت دیتا ہوں                 ’’اپنے مال سے اور اپنی ساری پَیداوار کے پہلے پھَلوں سے خُداوند کی تعظِیم کر۔‘‘یہی  وہ آیات ہیں جہاں پر میں اِن کودہ یکی کے لیے  بطور دلیل روکنے کے لیے شروع کرنے کےلیے  استعمال کرنے کا سوچا۔لفظی مطلب کہ لوگ اِس کوالگ کر دیں گے کہ تم پہلے پھلوں سے  ( مثال کے طور  پر درخت کا عمدہ، لائق اور  پسندیدہ پھل ) خُداوند کی تعظیم کرو گے۔  پہلی بات، کہ  ہم اپنی آمدنی کا 10فیصد حصّہ خُدا کو دینے کے بات کر رہے ہیں۔ توکون سا 10% حصّہ پہلا پھل ہے؟ اگر میری آمدنی کا 10%حصّہ= میری آمدنی کا 10%حصّہ۔تو کون سا 10% حصّہ سب سے  اچھا حصّہ ہے؟ کوئی سا بھی نہیں۔ دہ یکی کو قانونی ماننے والے تمہاری سالانہ آمدنی  پر 10% حصّہ خُدا کو دینے سے خُدا کو جلال  دیتے ہیں۔ پس اِن مانگوں کے تحت ،  چاہے میں اپنی ایک ہفتہ کی آمدنی پر 10% حصّہ دوں۔  چاہے  ہر مہینے کی آمدنی پر 10% حصّہ دوں  یا سال کے آخری مہینے دسمبر میں  پورے سال کی آمدنی پر 10% دوں۔( پس کچھ قانونی قسم کے خادمین اِس بات کو اِس طرح رَد کردیتے ہیں۔ کہ اپنی آمدنی پر دہ یکی  ہفتے کی آمدنی پر ہر اتوار کو دینی چاہیے ۔ نہ کہ کبھی جا کر ایک بار) یہ  قانون پرستوں کی سوچ کے ایک نقص کو ظاہر کرتا ہے کیا خُدا چاہتا ہے کہ دی ہوئی شرط کو  یا اپنی روح کی کثرت کو ختم کر  دیا جائے؟  دہ یکی کا قانون ایک مطالبہ ہے۔ مطالبہ ، مطالبہ ہی ہوتا ہے ۔مطالبہ ایمان نہیں ہوتا! سچائی کی روح قانون کا پورا کرنے سے ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ مقدس پولوس کہتے ہیں۔ ’’ کیونکہ اگر کوئی ایسی شریعت دی جاتی جو زندگی بخش سکتی تھی تو البتہ راست بازی شریعت کے سبب سے ہوتی۔‘‘ گلتیوں 21:3 ۔ پس کیا میں خُدا کو دے کر اُس کے نام کو جلال دیتا ہوں۔ کیا میں اُتنا ہی دوں جتنا میرا کیلکولیٹر بتائے؟ یاکہ وہ دوں جو روح القدس مجھے ہدایت دے۔ کب اور کہاں مجھے دینے کی ضرورت ہے؟

                پہلے پھل کے طور پر کیا دوسرے سے ایک ڈالر کا بل بہتر ہے؟نہیں! یہ آیات صرف پیسوں کے متعلق ہی بات نہیں کر رہیں بلکہ ہمارے بارے میں اورہم کیا کرتے ہیں اِس بارے میں ہیں۔ کیا میں خُدا کو اپنی کبھی کبھار کی رٹی رٹائی دعاؤں سے جلال دیتا ہوں۔ کیا میں کوئی وقت نکال سکتا ہوں کیا میں اپنے دِن کی مصروفیات میں سے صرف اُس کے لیے وقت نکال کر اُس کا جلال دیکھ سکتا ہوں۔ اِن میں سے کون سی بات میں میں نے خُدا کو اپنے پہلے پھل کا حصّہ دیا ہے؟ جب ہم حالت کے مطابق پیش کرتے ہیں۔ تو میرا پہلا خیال یہ ہوتا ہے کہ خُدا مجھے کیا کرنے کے لیے کہے گا۔ کیا یہ خیالات کسی دوسرے وقت کے لیے محفوظ کیے گئے ہیں۔ شاید حقیقت کے بعد؟ کیا میں خُدا کو اور اُس کی مرضی کو پہلے نمبر پر رکھتا ہوں  یا اپنی زندگی کی اہمیتوں پر آخری نمبر پر رکھتا ہوں؟ تم اپنے پہلے پھلوں کے ساتھ کس طرح خُدا کو حقیقی طور پر جلال دیتے ہو۔

                اِس آخری آیت کے بارے میں  ہم پہلے ہی اپنی بات چیت میں خوشحالی کو ذکر کر چُکے ہیں۔ لیکن آئیں اِسے دوبارہ پڑھیں۔

امثال  10:3 یُوں تیرے کھتّے خُوب بھرے رہیں گے اور تیرے حَوض نئی مَے سے لبریز ہوں گے۔

                کیا واضح طور پر یہی حالت ہے جسے ہم لینا چاہتے ہیں؟میرا چرچ تمہاری دولت لینے سے ، خُدا تمہیں مادی دولت بڑی مقدار میں دے گا۔‘‘ اگر اُن چیزوں پر تمہاری نظر لگی رہتی ہے تو تم خُدا کی بادشاہی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

                 پس کون سے کھتے بھریں رہیں گے، اور کس سے؟ بالکل ابھی، ہماری زندگی میں، ہم  روح القدس کی عقل و فہم  کی دولت سے بھرے جا سکتے ہیں جو ہمارے مال کے ذریعے سے خُدا کا جلال  دینا ہے۔ اور  اپنے پہلے پھل پیش کرنا ہے۔ لیکن مستقبل میں نئی زمین اور نئے آسمان ،  ہماری کوٹھڑیا ں  ناقابلِ بیان دولت سے بھری جا سکتی ہیں، خُدا کی بادشاہی کی خدمت میں  وفادار خدمت  سرانجام دینے کےلیے۔

                کیا تم فریسیوں کی طرح بائبل کی چیزوں کوصرف  سطحی طور پر دیکھو گے؟  یا  تم  اُن مادی و ظاہری چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے روحانی سچائی کو  بہت گہرائی میں دیکھو گے ؟بد قسمتی سے تقریباً  تمام شریعت پرستانہ چیزوں کے لیے دلائل ( جیسا کہ دہ یکی) سبھی کی بنیاد بائبل کی سمجھ لفظی اورسطحی نقطۂ نظر سے ہے۔

                چرچ میں دہ یکی کے لیے اِس دلیل کی آخری ٹانگ پرانے عہد نامہ میں خون کی قربانیاں ہیں۔ اب خون کی قربانیاں موسیٰ کی شریعت سے بہت پہلے اور انسان کے وقت سے بہت پہلے سےباغ کے باہر سے  وجود رکھتی ہیں۔ ہم جو پہلی مثال دیکھتے ہیں وہ ہابل کی قربانی ہے۔ پس خون کی قربانیوں کا مقصد کیاتھا؟ خالص اور سفید جانور کی قربانی جیسا کہ خُدا کو خوش کرنا اِس کے  الہامی اور علامتی مقاصد تھے۔ اِس کی الہامی قسم مسیح تھا، خالص اور بے الزام، جس کا خون انسان کے گناہ کی معافی اور ا نسان کی خُدا سے صلح کے لیے  بہایاگیا۔ یہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ قائن نے اپنے کھیت کے پھلوں کی قربانی کیوں چڑھائی  جو کہ رَد کر دی گئی۔ یہ انسان کے ہاتھوں کے کام سے نہیں ہوا تھا۔ جو خُدا کی حمایت حاصل کر لیتا، لیکن یسوع مسیح کے ذریعے سے اور مسیح کے خون بہانے کے وسیلہ سے۔ (یہ وہ بھی وجہ تھی جو خُدا نے آدم اور حوا کو انجیر کے پتوں سے لپٹے ہونے سے رَد کر دی جو انہوں نے خود بنائے تھے وہ ننگے تھے اور خُدا نے اُن کی شرم کو ڈھانپنے کے لیے جانور کی کھال اُن کو پہنائی ۔ اور یہاں پر وہ خود ذبح ہوا۔)خون کی قربانیاں تمام تاریخ میں جاری رہیں کہ آخر کار یسوع مسیح نے اپنے آپ کوتمام الہی گواہیوں کی تکمیل کے لیے  عظیم قربانی کےلیے پیش کر دیا۔اِس موضوع پر کہنے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن اب اِس عام  مقصد کو سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے  جس میں اُن  کی نیت بھی تھی اور اب اِس کی مزید ضرورت نہیں۔

                پس ،اِن  خون کی قربانیوں کو کس طرح  منسلک کیا جا تا ہے/یا دہ یکی اور مسیحی  خیر خواہی کو پیش کیا جاتا ہے؟ آپ کا اندازہ اتنا ہی عُمدہ ہے جتنا میرا۔ میں کچھ نہیں دیکھ سکتا۔ وہ کسی امانت دار فرض کے ساتھ منسلک نہیں کیے جاتے، اکیلے دہ یکی کے ساتھ۔ وہ اِس بات کے بندھے ہوئے نہیں تھے ، ’’ جو کچھ ہمیں  خُدا کا دیا ہوا ہے  اُس میں سے خُدا کا حصّہ دینا‘‘ گناہ کی معافی ، اور مسیح کے کام اور اُس  کی موت کی طرف دیکھنے کے لیے اُن کی الہی گواہی کے لیے خُدا کو خوش کرنا اُن کا مقصد تھا،

تباہ کن شریعت نے تباہ کیا

          مسیحی خادمین کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ دو خیالات سے نکل کر دہ یکی لائیں۔ مادہ پرستی (  جماعت یا مشن کے لیے فنڈنگ  بڑھانا یا  اُسے برقرار  رکھنا ہے۔) یا  شریعت پرستی  ( ایمان کی یہ خُدا کی طرف سے عنایت ہے   جو اُس نے ہمیں دے رکھی ہے)۔ مادیت پرستی کی مشکل یہ ہے کہ یہ بہت بڑھ گئی ہے۔ اور یہ بہت افسردہ بات ہے۔ یہ اُن خادمین پر سے پردہ اُٹھاتی ہے۔ جن کی نظریں خُدا کی بادشاہی پر مرکوز نہیں ہیں ۔ جو سب سے افضل ہے بلکہ اُن کی نظریں اِس گمراہ  دُنیا کی چیزوں پر لگی ہوئی ہیں۔اُن کی دلچسپیاں اِنہی باتوں میں ہیں۔ اور یہ بہت سے لوگوں کی ایک نشانی ہے۔ جو چرچ کی انتظامیہ میں دُنیاوی جڑ کو ظاہر کرتی ہے۔

                جبکہ مادہ پرستی بہت بڑی ہے  ( اور بہت سی باتوں میں بہت خطرناک ۔ شریعت پرستی کا معاملہ مجھے تمام معاملات سے زیادہ تنگ کرتا ہے۔ اگر خادمین اپنی جماعت کو یا اپنی کلیسیاء کو واپس موسیٰ کی شریعت میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ تو یقینی طور پر یہ بہت  بُری بات ہے۔ لیکن میرا خیال نہیں ہے کہ یہ اتنا ہی تباہ کن ہے جتنی مادہ پرستی خطر ناک ہے۔ دُنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگنا  اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خادم کا کردار اتنا اچھا نہیں  ہے۔  اور مادہ پرستی میں جکڑا ہوا ہے۔ شریعت پرستی بھی یہی ظاہر کرتی ہے ۔لیکن بہت سارے معاملات میں میرا خیال ہے۔ کہ کہانی کرپشن میں ایک ہے۔ لیکن رسومات اور انسانوں کا مذہب ( جو ایک سوچ کے مطابق مادہ پرستی اور دُنیا داری  کی ہی ایک قسم ہے)۔

                پس اِس کے بارے میں میرا کیا خیال ہے؟ یہ تعلیم میں غلطی ہے۔  جو کہ ایک سنجیدہ شخص نے کی ہے۔ جس کو کسی دوسرے سنجیدہ شخص نے یہ بات بتائی ہے۔ اگر کوئی تمہیں بہت ہی  بے رحم  طریقے سے سکھاتا ہے۔ جس کی تم عزت کرتے ہو۔ اور پھر بہت سالوں کے بعد جب خدمت میں جاتے  ہو تو یہی کچھ سکھاتے ہو جو تم نے سیکھا ہے۔ اگر اِس میں نقص ہے تو اِس پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے بائبل کے بہت سارے معاملات میں سچائی کا تلاش کرنا ایسا ہی ہے۔ تو تمہیں اپنی تہذیب کی طرف واپس جانا  ہو گا۔ اپنی قومی شناخت اور اپنی مذہبی روایات ، فرقہ پرستی اور مذہبی جماعتوں اور مشنوں سے دور رہنا ہوگا۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تم ایسے معاملات کے بارے میں تعلیم کو بائبل سے خود تلاش کرو۔ اور اُس پر عمل کرو۔یہ آخری معاملہ ہے کہ  خادموں کے ساتھ یہ ایک بہت بڑا مسلٔہ رہا ہے  جب وہ تعلیم کے ساتھ اِس طرح کا تنازع کھڑا کرتے ہیں۔جو میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کے نزدیک  یہ بالکل عجیب ہے۔ اُنہیں سکھایا گیا ہے۔ کہ یہ دہ یکی(  تعلیم کچھ بھی ہے) عظیم ہے اور  وہ اپنی طرف سے یہ بہتر  کرنے والے ہیں  کہ دوسرے اپنی ’’ ذمہ داری ‘‘  کو جاری رکھیں۔ میں نے ایک خادم کو یہ کہتے ہوئے سُنا جو اِس طرح کے مسلۓ ( دہ یکی کے علاوہ)  پر  دلائل سُننے سے انکاری تھا۔  کیونکہ وہ اپنے آپ کو بہت مجبور سمجھتے تھے۔اور اُنہوں اپنی حالت کے بارے میں قائل ہونا پسند نہ کیا ۔ کیوں؟ کیونکہ ’تعلیم ایکس‘ کچھ تھی کیونکہ اُنہیں ہمیشہ یقین دلایاگیا اور سکھایا گیا، کہ وہ اپنی جماعت میں کیسے واپس جائیں گے اور اُنہیں بتایا گیا کہ یہ غلط ہے؟اُن کی پوزیشن میں  انہوں نے خیال کیا کہ بائبل میں سچے جواب تلاش کرنا درست نہیں ہے، بلکہ وہ اُن باتوں سے چمٹے رہیں جو اُنہیں بتائی گئی ہیں۔ یہ آدمی جس کا اِس معاملے میں حوالہ دیاگیا ہے۔ ایک اچھا آدمی ہے اور ایک اچھا خادم ہے، لیکن وہ مذہب سے چمٹا رہنا پسند کرتا ہے۔ جہاں پر بائبل سچائی کے لیے پکارتی ہے۔

                واضح طور پر یہ بُرا ہے۔ ایسے خادمین کوآج کے دِن اِس طرح کی سوچ رکھنے کی وجہ سے  جواب دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن دہ یکی کے اِس معاملہ پر، میرا خیال نہیں ہے۔ کہ یہ کچھ ہے  جو اُن کے اپنے احکام  ،  چرچ یا  خدمت ہے۔ یہ اِس کی مدد نہیں کرتالیکن ہر کلیسیاء میں ہمیشہ تعلیم اور نظم و نسق کے  مسائل، معاملات  اور مشکلات  ہوتی ہیں ۔وفادار لوگ اِس طرح کی غلطیاں کرتے ہیں ۔ لیکن اِس  کا یہ مطلب نہیں  کہ تم بھی یہ غلطیاں کرو۔

© 1999-2020 by God's Point of View.

  • Facebook Social Icon
  • YouTube Social  Icon