پھل لانے کا عظیم بھید

ریورنڈ۔ ڈی۔ ارل ۔ کرپ

 

بہت سے لوگ حیرت میں مبتلا رہتے ہیں۔ کہ بادشاہی میں تم کیسے پھل لا سکتے ہو اور یسوع مسیح اور خُدا باپ کے لیے اپنی محبت اور تعریف و توصیف کا کیسے اظہار کر سکتے ہیں۔ کیا یہ مذہبی کام کرنے سے ہوتاہے؟ کیا یہ دِن میں ایک گھنٹہ دُعا کرنے سے ہوتاہے۔ کیا یہ ایمان کے ساتھ ہر اتوار کو چرچ جانے سے ہوتاہے؟ کیا یہ ہفتہ کی رات بائبل کا مطالعہ کرنے یا  اپنے گھر میں دوسروں کے ساتھ مل کر بائبل کےمطالعہ کرنے کی راہنمائی کرنے سے ہوتا ہے؟ کیا یہ زندگی کے راستوں پر جانے  ، نوکری ، گلی کے کونے ، خوشخبری کے کام ، یا جیل میں انجیل کے گواہ بن جانے سے ہوتا ہے؟ بہت خوب!یقیناً ہم یہ نہیں چاہتے کہ اِن تمام باتوں کی اہمیت کو کم کیا جائے۔ یا یہ تجویز کرنا ہے۔ کہ یہ اچھی ایمان سے بھری ہوئی زندگی گزارنے کے لیے ضروری نہیں ہے۔ لیکن اِن میں سے کوئی بھی مسیحی شاگردیت کے حقیقی راز کو ظاہر نہیں کرتی۔یسوع مسیح نے ہمیں یہ 9 تا   13  میں دیا ہے۔

 

یوحنا 9:15       جیسے باپ نےہم سے محبت رکھی ۔ ویسے ہی میں نے تم سے محبت رکھی ۔ تم میری محبت میں قائم رہو۔

 

یسوع مسیح اپنے شاگردوں سے ویسے ہی محبت کرتا ہے۔ جیسے خُدا باپ ( جس نے اُسے زمین پر بھیجا ۔ تاکہ چھٹکارے کا کام کرے ) اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے۔ اگر ہم اُس پر یقین رکھتے ہیں اور یقیناً ہم رکھتے ہیں۔ تو پھر ہم اُس کی محبت میں قائم رہتے ہیں۔ یسوع مسیح بتاتے ہیں۔ اُس کی محبت میں قائم رہنے کا مطلب کیا ہے؟

 

یوحنا 10:15    اگر تم میرے حکموں پر عمل کرو گے تو میری محبت میں قائم رہو گے۔جیسے میں نےاپنے باپ کے حکموں پر عمل کیا ہے۔ اور اُس کی محبت    میں قائم ہوں۔

 

کوئی بھی شخص اُس وقت تک یسوع مسیح سے محبت نہیں کر سکتا ۔ جب تک وہ اُس کے حکم کو نہیں مانتا ۔ اِس سکے کا دوسرا رُخ یہ ہے۔ کوئی بھی شخص  اُس وقت تک روح اور سچائی میں رہتے ہوئے اُس کا حکم نہیں مان سکتا۔ جب تک وہ اُس سے محبت نہیں رکھتا۔ ہم بعض اوقات اِس طرح ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے کہ ایک نوجوان آدمی اور نوجوان عورت ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ وہ وہی کرتی ہے۔ جو وہ اُس سے کہتا ہے۔ کیونکہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے۔ اگر وہ اُس کے برعکس سرکشی کرتی ہے۔ اُس کے لیے یہ سب کچھ سمجھنا بہت آسان ہے۔ کشش جتنی بھی ہو۔ وہ اُس سے محبت نہیں کرتی۔ دوسری طرف ایک دِن وہ بھی آ جاتا ہے۔ جب اُن کی شادی ہو جاتی ہے۔ جب وہ اپنے تمام کام کرتی ہے۔ جو اُس نے کئی سالوں سے وضع کیے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ میں خصوصیات کی مالک ہونے کے ناطے یہ خیال کرتی ہے۔ اور اُسے ایسا کرنا بھی چاہیے۔ لیکن وہ یہ سب کچھ بہت دیر تک نہیں کر پاتی ۔ کیونکہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے۔ سچائی خود بولتی ہے۔ وہ ناراض ہوتی ہے۔ اور خواہش کرتی ہے۔ کہ اُسے ایسے کام نہیں کرنے تھے۔ لیکن اُس کے پاس وجوہات ہیں۔ کہ اگر اُس نے یہ نہ کیا۔ تو وہ ایک اچھی مسیحی نہیں ہو سکتی۔ یہ اُس کے کردار میں برے بُرے طریقے سے ظاہر ہوتا ہے۔ غمزدہ کہانی جِسے لڑکی کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے۔ کہ وہ ایک اچھی مسیحی نہیں ہے۔ اپنی ناراضگی میں وہ دوسرے کام کرنا نہ تو اُس آدمی سے فرمانبرداری کرتی ہے۔اور نہ ہی خُدا کی فرمانبرداری کرتی ہے۔ جس کا وہ دعویٰ کرتی ہے۔

 

ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے ساتھ رشتہ میں بھی یہ سچ ہے۔ جب ہم پہلے پہل اُس کی طرف آئے تھے تو ہم اپنی محبت میں بہت شفیق تھے۔ اُس کے ساتھ اور اُس کے لیے ہم کافی کچھ نہیں کر سکے۔ ہمیں اِس بارے جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ کہ ہم کریں۔ جو ہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے اُس  کو خوش کرنا ہے۔  جس سے ہم محبت کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے ایسے بہت سے مسیحیوں کی زندگیوں میں جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اُن کی زندگیاں  ایسے ہیں جیسے کہ گھریلو عورت کا صرف بیان کیا جائے۔ اِس میں کوئی بھید نہیں ہےنہ ہی کوئی شادمانی ہے۔ لیکن ہم یہ کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ یہی ہے جو کہ ایک اچھا مسیحی کرتا ہے۔ ہمیں اپنی اِن خواہشوں اور حیرتوں سے گزرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ تو اُس خوشی اور شادمانی کا کیا ہوا جو کبھی ہم نے محسوس کی تھی۔ نقطہ یہ ہے کہ اگر تم یسوع مسیح سے محبت نہیں کرتےتو تم اُس کا حکم نہیں مانتے  یقیناً اگر تم اُس کا حکم نہیں مانتے تو تم اُس سے محبت نہیں کرتے۔ لیکن فرمانبرداری کے جذبات سے گزرنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم اُس سے محبت کرتے ہو۔ ہمیں یسوع مسیح سے محبت اُس کے احکام ماننے کے ذریعے سے کرنا ہے۔

 

ایمان اور محبت  ،  احساسات نہیں  ،  جذبات اور قابلیت

ہم یہاں پر جذبات کی بات نہیں کر رہے۔ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ جذباتی ہوتے ہیں۔جب انسان اپنی زندگی کے آخری سالوں میں ہوتاہے۔ تو اُس کے اندر وہ گرم جوشی نہیں ہوتی۔ جو جوانی میں ہوتی ہے۔ بائبل یہ تسلیم کرتی ہے۔ جوانی کے شرارت بھرے دِنوں کے آنے سے پہلے وہ ہمیں ہمارے خالق کی  یاد دلانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ جب ہم  جوان ہوتے ہیں تو مسیحی فرمانبرداری میں ہم زیادہ پُر جوش اور بےقراری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ برعکس اِس کے کہ جب ہم آخری ایام میں ہوتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں  کہ بوڑھے لوگ خدا کا حکم نہیں مان سکتے۔ حالانکہ وہ کر سکتے ہیں۔ یہی وہ نمایا ں نقطہ ہے۔جس کو ہم تراش رہے ہیں۔ یسوع مسیح کے ساتھ محبت کا احاطہ احساس و جذبات سے نہیں کیا جا سکتا۔ بالکل اسی طرح ہم سب یہ جانتے ہیں۔ چاہے ہم یسوع مسیح سے محبت کرتے ہوں۔ اور اُس کا حکم مانتے ہوں کیونکہ ہم یہ چاہتے ہیں یا ہم اپنی محبت کھو دیں۔  اور ہم جذبات میں سےگزر رہے ہوں۔ ہم یہ یقین کرتے ہیں کہ وہ یہی ہے جسے ہمیں کرنا چاہیے یسوع مسیح سے محبت شاگردیت کی بھید ہے۔

 

یوحنا 11:15   میں نے یہ باتیں اِس لیے تم سے کی ہیں۔ کہ میری خوشی تم میں ہو اور تمہاری خوشی پوری ہو جائے۔

 

یسوع نے یہ شاگردوں کا بتایا کیونکہ وہ چاہتا ہے۔ کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں۔ اُس میں وہ گرم جوشی اور خوشی منائیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اُنہیں خوفِ خدا ہو لیکن وہ ڈر اور خوف کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اُن کی زندگیوں میں ایک زبردست محرک بن جائے۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس کی خدمت کی جائے آسمانی باپ کی خدمت کی جائے۔ کیونکہ وہ اُس سے محبت کرتے ہیں۔ اور وہ اُن سے محبت کرتا ہے کیونکہ اُس کے بچوں کی بے پھل زندگی اُس کو خوش نہیں کر سکتی ۔ یسوع چاہتا ہے۔ کہ اُس کےتے اشاگردوں کی زندگی میں یہ خوشی بر قرار رہے۔ وہ جانتا ہے ( کہ ابھی وہ اِس مقام تک نہیں پہنچے) جو وقت آنے والا ہے۔ جو کہ بہت سخت ہو گا۔ جب نہ ہنسا جائے گا نہ مُسکرایا جائے گا۔ اور نہ زندہ دِلی دکھائی جائے گی۔ اور نہ روشن گلیوں میں چلا جائے گا۔ یسوع اپنی زمینی زندگی میں اِن نقاط میں ایک پر ہے۔ لیکن تمام خون اور آنسو کے باوجود جو کہ اُس کا پسینہ ہو گا۔ لیکن اِس کام کو کرنے کے لیے دوسرا راستہ اختیا کرنے کی جو  درخواست  اُس نے باپ سے کی۔ بائبل بتاتی ہے۔ کہ یہ صرف خوشی کی وجہ سے تھا۔ جو کہ اُس کے سامنے قائم کی گئی۔ جس کے لیے وہ صلیب پر ثابت قدم رہا۔ اور شرم کو نظر انداز کر دیا۔ اُس کے شاگرد ہونے کے ناطے ہم کوئی کھیل تماشہ نہیں ہیں بلکہ اگر ہم اُس کے شاگرد بننا چاہتے ہیں۔ تو ہمیں اپنی صلیب اُٹھانا ہو گی۔ وہ مردِ غمناک ، غم سے آشنا تھا۔ ہم اُس کے دُکھ درد میں میل ملاپ کے لیے بلائے گئے ۔ ہم ہر حال میں خوش ہو سکتے ہیں۔ چاہے زندگی ہو یا موت۔یسوع نے اُنہیں اُن کے لیے اپنی محبت کے بارے میں بتا دیا تھا۔ اور اُس کے لیے اُن کی محبت میں کیا فرق تھا۔ کیونکہ جب دہشتناک اور آخر کار انتہائی مہلک تجربات زندگی میں آئیں۔ تو وہ نہیں چاہتا کہ وہ اپنی خوشیاں کھو دیں۔   

 

ایسی محبت جیسی خُدا نے ہم سے کی۔

اب یسوع اُن سے کہتا ہے۔ کہ وہ اُن سے صرف یہ نہیں چاہتا کہ اُس کی خدمت کی جائے۔ کہ وہ اُن سے اِس طرح محبت کرتا ہے۔ جیسے اُس نےاور خُدا نے  اُن سے محبت کی۔ لیکن اُس کا مطالبہ یہ ہے کہ ایک دوسرے سے اُسی طرح محبت کر و جس طرح وہ اُن سے کرتا ہے۔ شاگردیت میں  یہ اطمینان بخش بات نہیں ہے۔ کہ انسان خداوند یسوع سے اِس طرح محبت رکھے جس طرح یسوع نے خُدا سے محبت رکھی۔ ایک نامکمل تصویر ہے یہ اِس سے متعلق ہے۔ کہ یسوع کے شاگرد ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔ جس طرح خداوند یسوع نے اُن سے محبت رکھی۔ یہ دیکھنا بڑا آسان ہونا چاہیے۔ اگر ہم یہ نہیں کرتے۔ توہم کام کرتے ہوئے اپنے دِل میں خُداوند یسوع مسیح سے محبت نہیں رکھتے ۔خداوند یسوع ایک عظیم انسان ہیں۔ اور اُس نے ہمارے لیے بڑے شاندار کام کیے ہیں۔ اُس سے محبت کرنا بہت آسان ہے۔ اور کسی بھی حالت میں اُس سے محبت کرنا بہت آسان ترین ہے۔ لیکن وہ محبت جو خُداوند یسوع مسیح نے ہمیں دکھائی اِس طرح کی وجوہات میں حوصلہ افزائی نہیں کی ہے۔ وہ ہم سے اُس وقت محبت کرتا ہے۔ جب ہم ایک دوسرے سے غیر دلکش ہوتے ہیں۔ اور محبت نہیں کرتے۔ یہ نہیں کہ ہم نے اُس سے پہلے محبت کی۔ بائبل کہتی ہے۔ ‘‘لیکن اُس نے ہم سے پہلے محبت کی ’’ ‘‘جب ہم گناہ گار ہی تھے تو خداوند یسوع مسیح ہمارے لیے موا’’  کہ ہم ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اگر ہم خداوند یسوع کے تاکستان میں پھل لاتے ہیں۔

 

یوحنا 12:15   میرا حکم یہ ہے کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔

 

اب یسوع اُن کو بتاتا ہے۔ کہ وہ کس طرح کی محبت تھی جو وہ اُن کے لیے رکھتاتھا۔

                        

یوحنا 13:15   اِس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہیں کرتا ۔ کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے دے۔

 

سب سے عظیم محبت وہ ہوتی ہے۔ جب ایک شخص اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے دے دیتاہے۔ یہ ایک شخص کا جان دینا چارلس ڈارنے کی کہانی دو شہروں کی کہانی سے زیادہ احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اِس کا مطلب گولی کھانے سے زیادہ ہے تاکہ ارادہ کی ہوئی قربانی بیوی ار بچوں کے لیے گھر جاسکے۔ وہ لازمی تصورات ہیں۔ لیکن تمہارا اپنے دوستوں کے لیے جان قربان کرنا اِس سے کہیں آگے ہے۔ اِس کا مطلب اُن کو کوتاہیوں کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ اِس کا مطلب اُن کی ضرورتوں میں اُن کی مدد کرتا ہے۔ اِس کا مطلب اُن کے ساتھ بُردباررہنا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی بُری عادتوں سے نکل رہے ہیں۔ اور روحانی پختگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اِس کا مطلب اُن کی زندگیوں  کا خیال کرنا ہے۔ اتنا جتنا اپنا خیال رکھنا ہے(یا اِس سے بھی زیادہ) اور اِس طرح کی دوسری باتیں۔جب تک ہم قانونی اور حقیقی طور پر انے دوستوں کے لیے یہ کام کرنے کے لیے راضی نہ ہوں۔ ( حالات اور روح القدس اُن کا جیسے تعین کرے) اگر ہم اپنے دوستوں کے ساتھ اُس طرح محبت نہیں کرتے جیسا مسیح نے ہمارے ساتھ  محبت کی۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہم اُس میں قائم نہیں ہوتے۔ ہم اُس کے تاکستان میں پھل نہیں لاتے۔ اور اُس کے دوست کی طرح پیش نہیں آتے یا برتاؤ نہیں کرتے۔

 

© 1999-2020 by God's Point of View.

  • Facebook Social Icon
  • YouTube Social  Icon