نجات کیسے  حاصل  کی جاتی ہے

(یہ آرٹیکل   خدا کے خادم ارل کرائپ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں لکھا کہ  میں   نجات کیسے حاصل کروں)

 

یسوع نے کہا کہ" راہ حق اور زندگی میں ہوں"ایک بات جو واضح ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ   یسوع  مسیح  کے پاس ہی  اس سوال کا جواب ہے کہ میں نجات کیسے حاصل کروں؟ مسیح کو بائبل میں خدا کا کلمہ ظاہر کیا گیا ہے بدقسمتی سے آج بائبل کے بہت سارے تراجم میں اس بات کی نفی کی جاتی ہے۔ آج جدید تراجم میں انسانوں نے اپنی مرضی کے مطابق تبدیلیاں کر دی ہیں سارے تو نہیں مگر آج بہت سے تراجم قابل بھروسا نہیں ہیں۔ جب میں بائبل کے درست ترجمے کی بات کرتا ہوں تو اس سے مراد انگریزی  کنگ  جیمسز بائبل ہے   ۔کوئی شخص نجات کیسے حاصل کر سکتا ہے میں آپ کے لئے اس سوال کا جواب آسان طریقے سے بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔ فطری لحاظ سے ہم آدم کی اولاد ہیں ہم اس میں سے نکلے ہیں اور اس کا ورثہ ہیں ۔اس      ورثہ میں     ہماری فطری پیدائش ہماری زندگی اور موت شامل ہے۔ جی ہاں موت آدم کی میراث ہے اور اس موت کے بعد خدا کے سامنے عدالت کے لئے حاضری موجود ہے ۔

رومیوں 3:  10میں خدا خود ہمیں بتاتا ہے کہ آدم کی اولاد کے پاس موت کے بعد کوئی امید باقی نہیں سب فانی زندگی کے وارث ہیں ۔لہذا وہ خدا کے سامنے حاضر ہوں گے تو راستباز خدا ان کی عدالت کرے گا  ۔طوفان ِ نوح،  کوہ سینا ہ  پر شریعت ،المسیح کی آمد اول اور تعلیمات ،اسرائیل کے لیے خدا کا کلام اور وہ تمام مذہبی سرگرمیاں جو انسان نے ترتیب دی ان سب کا مقصد آدم کی نسل کی اصلاح اور تبدیلی ہے تاکہ وہ خدا کے سامنے ابدی زندگی کے حقدار ٹھہرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدم کی نسل بدی سے بھری ہے اور جس طرح خدا  کی شریعت مطالبہ کرتی ہے  وہ اپنے آپ کو تبدیل نہیں

 کر سکتے ۔

مگر پھر بائبل ہمیں آدم ثانی کے بارے میں بتاتی ہے جو کہ آخری آدم ہے جو انسان بن کر اس دنیا میں آیا  ،وہ  ایسی تمام چیزیں کرنے آیا جو اولاد آدم نہ کر سکا وہ شریعت کو پورا کرنے آیا ۔وہ اس زور سے سچائی سے معمور ہو کر آیا تھا کہ ابدی زندگی کا پیغام دے سکے۔ اس آدم ثانی کا نام  یسوع مسیح  ہے جسکا مطلب ہے کہ      یہواہ میرا نجات دہندہ ہے۔ اور مسیح  کا مطلب مسیحا یا خدا کے سامنے مسح کیا ہوا ۔یہ مسیحا لوگوں کو ان کے گناہوں سے نجات دینے آیا تھا اور  اس نے ایک ہی دفعہ خدا کی مرضی کو پورا کرتے ہوئے صلیب یہ نعرہ لگایا کہ تمام ہوا ۔ یعنی باپ نے اسے جو کام اس دنیا میں کرنے کو بھیجا تھا اسی نے اسے مکمل کیا۔ اس نے ہماری عدالت اپنے اوپر لے لی اورہمارے گناہوں کی خاطر مر گیا تا کہ ہم ہمیشہ کی زندگی کے وارث بنیں۔اس یہ وہ کام ہے جو اس نے ہمارے لیے کیا خدا نے اس کی موت کو ہمارے گناہوں کی کامل قربانی کے طور پر قبول کیا ۔

یہاں تک تو یہ کہانی بہت سے لوگوں نے سن رکھی ہے  اور اس سے متفق بھی ہیں۔ مگر انجیل کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جس پر مذہبی آدمی متفق نہیں ہوتے ہیں۔ نجات حاصل کرنے کے لیے  خدا آپ سے مجھ سے   یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اپنی زندگی میں ہم اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ ہم آدم کی اولاد

ہیں ،ہم خدا کے دشمن ہیں ہم بدی سے بھرے ہیں ۔ہم اپنی کوششوں سے نجات حاصل نہیں کر سکتے ہم نا امید ہیں۔ ہم اس بات کو پہچاننا ہے  کہ مسیح آدمی ثانی ہے اور اس کے خاندان میں گناہ ،موت اور ابدی ہلاکت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہمیں رضاکارانہ طور پر اس گناہ بھری زندگی کو چھوڑنا

 ہو گا ۔اور اس  گناہ بھری زندگی سے مراد ایسی زندگی ہے جو تکبر ،مادی خواہشات نشہ جنسی ناپاک خواہشات لالچ سے بھری پڑی ہے۔ ہمیں خدا سےیہ   کہنے کی ضرورت ہے کہ وہ ہمیں روح القدس  عطا کرے اور ہم مسیح کی موت  اوراس کی جی اٹھنے کے وسیلے سے رو ح القدس کی معموری  حاصل کریں  تاکہ مسیحی گھرانے میں نئے سرے سے پیدا ہو ں۔ اگر ہم یہ سب باتیں کریں اور اسی پر ایمان لائیں تو خدا ہمیشہ کی زندگی عطا کرے گا ۔

آئیے ہم بات کو سمجھیں  کہ نجات ہمیں اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے  نہیں ملتی   اور درحقیقت ہم اچھے کاموں کے مستحق تو ہیں  ہی نہیں ہیں ۔اور نہ ہی    ہمیں خدا  سے وعدہ کرنا پڑے گا کہ ہم منادیا  مشینری بنیں گے ۔مگر ہمیں اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ ہم گناہگار ہیں ہمارے پاس کوئی امید نہیں ہے ۔ہم اس پرانی زندگی کو چھوڑ کر  مسیح کی ،موت اس کے دفن ہونے اور اس کے جی اُٹھنے  پر ایمان لانے کے وسیلے نئی زندگی میں داخل ہونا چاہتے

ہیں ۔جسمانی طور پر تو روز قیامت کے آنے تک یہ باتیں ممکن نہیں ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے  کہ  جو مسیح کے  لوگ ہیں وہ اس کے ساتھ جی اٹھیں

گے ۔مگر جب  ہم ایمان کے وسیلہ سے خدا کے پاس آتے ہیں اور مسیح کی موت دفن ہونے  اور جی اٹھنے پر  ایمان لاتے ہیں تو بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا ہمیں نجات دیتا ہے۔  مسیح نے فرمایا میں انہیں ہرگز نکال دوں گا ۔

نجات حاصل کرنے کے لیے جذبات احساسات اور کسی مافوق الفطرت نشان  کی توقع نہ رکھیں۔ شاید کوئی مافوق الفطرت واقعات رونما ہو بھی جائے وہ عین ممکن ہے کہ ایسا نہ  ہو کیونکہ  ایمان  پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔ جس سچائی پر ہم بطور نیا مخلوق یافتہ ایمان رکھتے ہیں وہ سچائی خدا کے وعدوں پر مشتمل ہے جو کہ خدا کے کلام یعنی بائبل میں لکھی ہیں۔ جس کا مصنف خود خدا ہے نجات کا تعلق اس بات پر نہیں کہ ہم کیا دیکھتے ہیں یا کیا سوچتے،اور محسوس کرتے ہیں۔ اگر آپ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ خدا اپنے وعدے کے مطابق کام کرے گا تو پھر آپ کو یہ پریشانی مول لینے کی ضرورت

نہیں ۔لیکن  اگر آپ خدا کے وعدے پر ایمان رکھتے ہو تو خدا  داپنے بیٹے کے مرنے، دفن ہونے اور جی اٹھنےپر  ایمان لانے کے وسیلے آپ کو نجات عطا کرے  گااس طرح آپ نئے سرے سے پیدا ہوں گے ۔

آپ اس جھوٹ پر ہر گز یقین  نہ کریں کہ نئے سرے سے پیدا ہونے کے لیے آپ کو غیر زبانیں ، رویا یا  خو اب کی ضرورت ہے۔ بلکہ آپ روح  القدس میں ایمان کے ذریعے جان جائیں گے کہ آپ نے سے پیدا ہوئے ہیں۔ تو آپ کو کیا کرنا چاہیے اس سلسلے میں چند باتیں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔

 

نمبر ایک

میں آپ کو  رومیو ں کے خط پر لکھی  اپنی  تفسیر بھیج رہا ہوں۔ یہ بائبل مقدّس کی اہم ترین کتاب ہے اور میں چاہتا ہوں کے روز آپ سے تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں اور جب تک مکمل نہ  پڑھ  لینں اسے پڑھنا مت چھوڑ یں ۔ اور پھر دوبارہ سے پڑھیں اور کم از کم تین مرتبہ پڑھیں ۔اس بات سے پریشان نہ ہوں کے آپ تمام لکھی باتوں کو سمجھ نہیں پا رہے۔ مگر آپ کچھ نہ کچھ سمجھ پاؤ گے ۔اور یہی وہ روحا نی خوراک ہوگی جو آپکو مسیح میں ترقی دے گی۔

 

نمبر دو

اگر آپ چاہیں تو لوگوں کو ضرور بتائیں کہ آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے مگر میرے خیال میں یہ کام فو رامت کریں میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ اپنی نجات کے فیصلے کو خفیہ رکھیں میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ خود آپ میں  حقیقی تبدیلی کو دیکھیں تب آپ ضرور بتائیں۔ 

 

نمبر تین

گلتیوں کے خط کا مطالعہ شروع کریں اور روز بائبل میں سے تھوڑا تھوڑا اسے پڑھ کر ایمان کے ذریعے خدا سے    اس  کلام کو سمجھنے کے لئے  رہنمائی مانگیں  وہ آپ ایمان سے مانگیں گے تو وہ ضرور عطا کرے گا ۔

 

نمبر چار

کوئی مذہبی کتاب جب تک آپ مجھ سے نہ معلوم نہ  کرلیں پڑھنا مت شروع کر دیں ۔بہت ساری کتب میں اچھا مواد موجود نہیں ہے ایسی بہت ساری کتابیں آپ کو گمراہ کر سکتی ہیں۔

اگر آپ کی کمپیوٹر تک رسائی ہے تو ہماری ویب سائٹ کو ضرور وزٹ کریں یہاں سے آپ تھوڑے سے پیسوں میں اچھی کتب ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں میں یہ مشورہ دوں گا کہ آپ رومیوں اور گلتیوں  کے ساتھ جڑے رہیں اور عبرانیوں اور پیدایش  کی  کتاب کا بھی مطالعہ کریں  فی الحال مکاشفہ کی کتاب سے دور رہیں مگر اگر آپ اس کو پڑھنے کے لئے   ارادہ رکھتے ہیں  تو خدا سے اسے  سمجھنے کے لئے خاص رہنمائی مانگیں۔ اور اسے پڑھتے ہوئے اپنے خیالات پر انحصار نہ کریں۔ 

 

مجھے یقین ہے کہ مندرجہ بالا باتیں آپ کی مدد کریں گی اور میں آپ کے لیے دعا بھی کروں گا ایک ضروری کام جو آپ کو کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ آپ چرچ لازمی  جائیں۔ اگلے ہی ا توار ایسا کریں میں نہیں چاہتا کہ انتظار کریں۔ اگر آپ کسی اچھے  چرچ سے واقف نہیں تو اس سلسلے میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں ۔مگر آپ ضرور جائیں خدا یہ چاہتا ہے کہ آپ اپنے ہم ایمان  بھاہیوں سے رفاقت رکھیں۔ایسے چرچ میں ہرگز نہ جائیں جہاں جو ہم جنس پرستی کی اجازت دیتا ہو۔  ایسا چرچ میں جانے سے بھی گریز کریں جو  بائبل کی تعلیمات اور بنیادی  عقائد پر یقین نہ  رکھتا ہو،بالخصوص مورمن ، یہواہ  وٹنس، اور کیرسمیٹک  چرچ  سے دور رہیں خداوند آپ کو برکت دے۔

دعا گو ۔ ارل کرایپ